مذہب کی ملحدانہ تشریح
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک فنکار یا ایک مفکر کے اندر یکا یک کسی خیال کا آ جانا ایک معلوم بات ہے (صفحہ 196) اسی طرح مرنے کے بعد دوبارہ زندگی پانا بالکل لفظی معنوں میں سمجھ میں آنے والی چیز نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ تمثیلی زبان تسلیم کر لی جائے تو ہم اسے سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ جسم کے متعلق ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد منتشر ہو جاتا ہے۔ اور روح بھی اسی کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے دوبارہ زندگی کا تصور لفظی معنوں میں ناقابل فہم ہے۔ (صفحہ 204) الکس کیرل الہام کو صوفیانہ معرفت (mysticism) قرار دیتا ہے۔ اس کے نزدیک خدا کی تلاش مکمل طور پر ایک ذاتی مہم (personal undertaking) ہے۔ جس طرح ایک شخص جسمانی ورزش کر کے پہلوان بنتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص ترک دنیا اور تپسیا کے ذریعہ روحانیت کے سایہ میں پہنچنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: ”اپنے شعور کی مشق کر کے آدمی ایک ایسی ناقابل مشاہدہ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے جو ایک خلقی (immanent) حقیقت بھی ہے اور مادی دنیا سے بالاتر بھی۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو ایسے بڑے جوکھم میں ڈالتا ہے جس کی کوئی شخص جرات کر سکتا ہے۔ وہ کسی کو ہیر و نظر آ سکتا ہے اور کسی کو دیوانہ، مگر کوئی شخص یہ سوال نہیں کر سکتا کہ عارفانہ تجربہ صحیح ہے یا غلط۔ یہ کوئی خود ساختہ چیز ہے یا وہم ہے یا روح کا ہماری دنیا کے ابعاد (dimension) سے پرے کوئی سفر ہے جہاں وہ اعلیٰ حقیقت سے جا کر مل جاتی ہے۔ معرفت آدمی کی اعلیٰ ترین آرزوؤں کو تسکین دیتی ہے، اندرونی قوت، روحانی روشنی، خدائی محبت، بے حد سکون، مذہبی وجدان اتنا ہی حقیقی ہے جتنا جمالیاتی احساس: “Religious intuition is as real as aesthetic inspiration.” مافوق البشرٹی حسن کے تصور کے ذریعہ عارف اور شاعر آخری صداقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader