مذہب کی ملحدانہ تشریح
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
“On the poetic level of the subconscious psyche, the comprehensive vision is prophecy.” (An Historian's Approach to Religion, p. 123) علوم اجتماعی کی انسائیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار کے الفاظ میں مذہب (religion) کی مثال آرٹ سے دی جا سکتی ہے، جس طرح بعض لوگ دوسروں کے مقابلہ میں آرٹ کا خصوصی ذوق رکھتے ہیں۔ اور اس میدان میں غیر معمولی مظاہرے کرتے ہیں، اسی طرح بعض لوگوں میں اندرونی بصارت و سماعت (inner eyes and ears) سے دیکھنے اور سننے کی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ چیز ہے جس نے مذہب کے تجربات سے انسان کو آشنا کیا ہے۔ Encyclopaedia of the Social Sciences, 1957 (vol. 13, p. 230) ٹی آر مائلز (T. R. Miles) لکھتا ہے: ”مذہب کی ما بعد الطبیعی حقیقتیں اگر مذہب کے اپنے لفظی معنی میں لی جائیں تو وہ بے معنی ہیں۔ البتہ مجازی زبان (language of parable) کی حیثیت دی جائے تو وہ با معنی ہو سکتی ہیں۔ جیسے کوئی شخص ایک نئی دریافت کرتا ہے تو ہم کہہ اٹھتے ہیں: “It was an absolut revelation.” یہ تو بالکل الہام تھا۔ اس طرح شاعر پر الہام ہوتا ہے۔ اور اسی طرح پیغمبر پر الہام ہوتا ہے۔ “Religion & The Scientific Outlook” (p. 195-6) مائلز کے نزدیک وحی کو اگر اس معنی میں لیا جائے کہ وہ خدا کے اپنے الفاظ ہیں، جو فرشتے کے ذریعہ کسی خاص انسان پر اترتے ہیں تو یہ ایک بے معنی بات ہوگی۔ البتہ اگر اس کو بصیرت کی روشنی (flash of insight) کہیں تو وہ سمجھ میں آتا ہے۔ کیونکہ اس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader