Urdu book · مذہب اور سائنس

تبصرہ

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

تبصرہ اوپر کی سطروں میں مذہب کی جو جدید تشریح نقل کی گئی ہے اس کے بارے میں، الکس کیرل کے وہ الفاظ دہرائوں گا، جو اس نے خود اپنے بارے میں لکھے ہیں: "مصنف کو تسلیم ہے کہ مذہب سے متعلق ذہنی اعمال کی تشریح جو اس نے کی ہے وہ نہ سائنس دانوں کو پسند آئے گی اور نہ مذہبی لوگوں کو۔ سائنس دان اس قسم کی کوشش کو طفلانہ یا بے معنی کوشش سمجھیں گے اور مذہبی علماء اس کو غلط اور فضول قرار دیں گے۔" (ایضاً صفحہ 132) مذہب کی مندرجہ بالا تشریح میں اگرچہ مذہب کے الفاظ موجود ہیں مگر حقیقتاً اس میں اور خالص الحاد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ 1۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس تشریح کے مطابق مذہب ایک غیر حقیقی چیز قرار پاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور آخرت اور الہام فی الواقع اپنا کوئی وجود نہیں رکھتے، بلکہ وہ ہماری قوت تخیل کے کرشمے ہیں۔ مگر مذہب نے جس شدت کے ساتھ ذہنوں میں جگہ بنائی ہے اس کے لحاظ سے یہ بات بالکل ناقابل قیاس ہے کہ وہ محض ایک تخیلاتی چیز ہو۔ دورِ حاضر کا مشہور مورخ ٹائن بی لکھتا ہے: "اگر ہم مذاہب کے ایک سروے پر نکلیں جو مختلف مقامات پر مختلف زبانوں میں بے شمار انسانی سماج اور گروہوں میں رائج رہے ہیں، جن کے متعلق ہم کچھ معلومات رکھتے ہیں تو ہمارا پہلا تاثر یہ ہوگا کہ مذہب کی شکلوں میں حیران کن حد تک تعدد پایا جاتا ہے۔ تاہم غور وفکر اور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page