Urdu book · مذہب اور سائنس

تبصرہ

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

دراصل تین بنیادی اقسام کی مختلف صورتیں ہیں۔ یعنی فطرت، انسان خود اور حقیقت مطلق (Absolute Reality) جو کہ نہ فطرت ہے، نہ خود انسان ہے بلکہ وہ ان کے اندر ہوتے ہوئے ان سے باہر ہے۔“ An Historian's Approach to Religion, p. 16 گویا تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم ترین زمانے سے لے کر اب تک انسان ایک حقیقت اعلیٰ کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک بالکل فرضی چیز اس طرح انسانی تاریخ پر چھا جائے۔ کیا دوسری کسی ایسی چیز کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو غیر حقیقی ہونے کے باوجود اس طرح انسان کی نفسیات پر اثر انداز ہوتی ہو۔ 2۔ اس تشریح میں فطری طور پر مذہب کسی ایک چیز کا نام نہیں رہتا بلکہ وہ ہزار چیز بن جاتا ہے۔ کیوں کہ جب مذہب آدمی کا اپنا ذہنی عمل ہے تو وہ ہر شخص کی اپنی استعداد، اپنے مزاج اور اپنی یافت کے لحاظ سے الگ الگ ہوگا۔ حالانکہ مذہب کا حکم الہیٰ ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک متعین شکل میں ہوتا کہ اس کی بنیاد پر ہر شخص کے رویے کے صحیح اور غلط ہونے کا تعین کیا جا سکے۔ اس طرح تصور مذہب کے فرق کی وجہ سے حقیقت مذہب میں بنیادی فرق ہو جاتا ہے۔ یہاں میں ٹائن بی کا ایک اقتباس نقل کروں گا: ”مختلف لوگوں کے عقائد بہر حال مختلف ہوں گے کیوں کہ حقیقت مطلق (Absolute Reality) ایک راز ہے جس کی صرف ایک جزوی جھلک انسانی ذہن نے دیکھی ہے۔ اتنی بڑی حقیقت صرف ایک راستہ پر چل کر معلوم نہیں ہو سکتی۔ میرا عقیدہ کتنا ہی مضبوط اور پختہ کیوں نہ ہو کہ میرا ادراک صحیح ہے۔ مجھے اس سے باخبر رہنا چاہیے کہ میری روحانی نظر محدود ہے۔ میں نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page