Urdu book · مذہب اور سائنس

تبصرہ

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

میں مشتبہ ہے کہ یہ دعویٰ کیا جائے کہ خدا کی طرف سے ایک مخصوص اور آخری الہام ہوا ہے جو اس کہکشانی نظام میں سورج کے ایک کرہ پر ایک متعین وقت میں ایک خاص گروہ کو عطا ہوا ہے۔ ”خدا اپنی مخلوق پر الہام کرتا ہے“ کے مقدمہ کے اس ذاتی (self centered) انطبا ق میں مورخ شیطانی شرارتوں کی جھلک دیکھتا ہے۔ کیوں کہ الہام اور مخصوص الہام میں منطقی طور پر کوئی لازمی رشتہ نہیں ہے۔ یعنی یہ کہ ”میں“ ہی وہ شخص ہوں جس پر تمام لوگوں کے درمیان خدا کا الہام ہوا ہے اور میرا الہام مخصوص اور آخری ہے۔“ (صفحہ 132) میں کہوں گا کہ اس غلطی کی بنیاد خود اس تصور الہام میں ہے جو مورخ مان رہا ہے، ورنہ معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع الہام اور مخصوص الہام میں اتنا قریبی اور منطقی رشتہ ہے کہ دونوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ جدید مفکرین کا تصور الہام یہ ہے کہ وہ اسی قسم کی ایک چیز ہے جیسے کسی آرٹسٹ کے ذہن میں کسی عمدہ تصویر کا خیال آجاۓ، یا شاعر کو کوئی عمدہ شعر سوجھ جائے۔ خدا ان کے نزدیک کوئی شعوری وجود نہیں جو بالا ارادہ ایک خاص مقصد کے تحت کسی کو اپنی مرضی کے اظہار کے لیے چنتا ہو۔ بلکہ وہ کسی قسم کی مجہول خارجی حقیقت ہے جو ہماری کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی پرچھائیاں ہم پر پڑتی ہیں، اور بعض لوگوں کے نزدیک یہ بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ صرف ہمارا تحتِ شعور ہے، جو وحی والہام کی صورت میں بولتا ہے۔ ظاہر ہے کہ مذہبی نقطہ نظر سے صورت حال اس سے قطعی مختلف ہے۔ اس لیے مذہب کا تصور الہام جدید مفکرین کی سمجھ میں کیسے آسکتا ہے۔ 4۔ اس جدید تشریح میں مذہب صرف ایک دنیوی ضرورت بن کر رہ جاتا ہے، جب کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page