Urdu book · مذہب اور سائنس

تبصرہ

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب دراصل ایک اخروی ضرورت ہے۔ یعنی خالص مذہبی نقطہ نظر سے مذہب کا اصل کام انسان کو دوسری زندگی کی نجات کا راستہ بتانا ہے۔ مگر اس تشریح میں مذہب کا مقصد صرف یہ ہو جاتا ہے کہ دنیا میں سماجی تنظیم کے لیے ایک موزوں بنیاد فراہم کرے۔ وہ ایک مفروضہ عقیدہ ہے نہ کہ کوئی واقعی حقیقت: “Indeed a dogma is only workable thought arrangement on which could be built a unity of purpose and practice among the believers of a particular religion.” (Hindustan Times, Oct. 1961) یعنی مذہبی عقیدہ صرف ایک قابلِ عمل تنظیم فکر ہے جس کی بنیاد پر ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے درمیان مقصد اور جدوجہد کا اشتراک قائم رکھا جا سکتا ہے۔ 5۔ اس جدید تصور کے پیدا ہونے میں کسی قدر دخل مروجۂ یہودیت کا بھی ہے، جس کا تعلق حضرت موسیٰ کی تعلیمات سے نہیں، بلکہ وہ ان کے بگڑے ہوئے پیروؤں کا اپنا عقیدہ ہے۔ ٹائن بی لکھتا ہے: ”در حقیقت یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ خدا جس کا ذہن اور جس کا ارادہ پوری کائنات کے نظام پر حکومت کرتا ہے وہ اس قسم کی وہی حرکت کرے گا۔ یہ نہایت بعید از قیاس بات ہے کہ وہ تمام لوگوں میں سے ”مجھ“ کو اور میرے گروہ کو چن لے اور مجھ کو اپنا پیغمبر اور میرے قبیلہ کو اپنا محبوب گروہ (choosen people) قرار دے۔ اس قسم کا کوئی بھی تصور حقیقت سے زیادہ ایک فریب ہے، جو آدمی نے خود ہی اپنے ذہن میں پیدا کر لیا ہے۔“ An Historian's Approach to Religion, p. 135

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page