تبصرہ
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں تک ’’محبوب گروہ‘‘ کا تعلق ہے اگر اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ کوئی گروہ محض ایک خاص نسل یا ایک خاص شخص سے منسوب ہونے کی وجہ سے محبوب ہے تو یہ ایک لغو بات ہے۔ اور غالباً یہود کے عقیدہ کی بنا پر یہی مورخ کے ذہن میں ہے مگر یہ اصل مذہبی تصور کی صحیح ترجمانی نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا کے الہام کی جولوگ پیروی کریں گے وہ خدا کی نظر میں محبوب لوگ قرار پائیں گے، اس سے قطع نظر کہ وہ نسلی اعتبار سے کس خاندان میں پیدا ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی اس تشریح کا مطلب مذہب کے نقطہ نظر سے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ مذہب کو مانتے ہوئے مذہب کا انکار کر دیا جائے۔ ایک ایسا مذہب جس پر عذاب وثواب مرتب نہ ہوتا ہو، جو بس ایک قسم کی شخصی مہم ہو، اور دوسرے انسانوں سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، جو کسی زندہ اور باشعور خدا کی طرف سے نہ ہو۔ بلکہ خود انسان کے اپنے ذہن اور نفسیات کا کرشمہ ہو۔ ایسا مذہب لا الہ الا الانسان کے کلمہ کے تحت بن سکتا ہے لا الہ الا اللہ کے کلمہ کے تحت نہیں بن سکتا۔ ایسے کسی فکر کو ’’مذہب‘‘ کہنا اگر مصلحت اندیشی کی بناء پر ہے تو وہ سادہ لوحی ہے اور اگر علمی مغالطہ ہے تو فریب۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader