برٹرینڈ رسل کے خیالات
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹرینڈ رسل کے خیالات یہ 1966ء کی بات ہے۔ میں نے طے کیا کہ میں برٹرینڈ رسل (1970-1872) کو پڑھ ڈالوں۔ خوش قسمتی سے قریب ہی ایک لائبریری میں مجھے رسل کی کتابوں کا پورا سیٹ مل گیا۔۔ مگر جب میں ان کتابوں کو لے کر گھر پہنچا تو میری بیوی ان کو دیکھ کر بہت متوحش ہوئی ” اب آپ ضرور گمراہ ہو جائیں گے“۔ اس نے کہا۔ یہ واقعہ ہے کہ رسل اس دور کا غلیظ ترین ملحد ہے۔ اس لحاظ سے اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام ذوق کے مطابق خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اس طرح اس سے نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو چکا تھا۔ موجودہ زمانہ کے فلسفیوں میں رسل کا مطالعہ سب سے زیادہ وسیع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے اگر کوئی استثناء ممکن ہے تو وہ صرف وائٹ ہڈ کا۔ برٹرینڈ رسل کی زندگی تقریباً ایک صدی پر پھیلی ہوئی ہے۔ اپنے بیان کے مطابق وہ ساری عمر دو چیزوں کے تحقیق میں مصروف رہا۔۔ ”ہم کتنی چیزوں کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں اور یہ کہ ہمارے علم کا کتنا حصہ یقینی ہے اور کتنا حصہ مشتبہ ہے۔“ “I have throughout been anxious to discover how much one can be said to know and with what degree of certainty or doubtfulness.” (My Philosophical Development, p. 11) اس مقصد کے لیے رسل نے خاص طور پر چار سائنسی شعبوں کا مطالعہ کیا۔۔ فزکس، فزیالوجی، سائیکالوجی اور میتھ میٹکل لاجک۔ My Philosophical Development, p. 16

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader