طریقہ استدلال کا مسئلہ
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
معیار میں وہ براہِ راست طور پر اصل دعوٰی سے متعلق نہیں ہوتا۔ مگر اس فرق کی اہمیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے، جب ہم اس واقعہ کو سامنے رکھیں کہ تجربہ خواہ کتنا ہی متعلق اور براہ راست ہو مگر بہر حال وہ اصل حقیقت کا صرف ایک خارجی مظہر ہوتا ہے۔ وہ بذاتِ خود اصل حقیقت نہیں ہوتا۔ جیسے ٹیلیفون نمبر بلاشبہ صاحب ٹیلیفون سے متعلق ہے مگر وہ خود صاحب ٹیلی فون نہیں ہے۔ گویا یہاں بھی سائنس داں کے مشاہدہ یا تجربہ کو جو چیز اصل حقیقت سے جوڑتی ہے، وہ صرف ایک ایسی چیز ہے، جو اس کے ذہن میں ہے، یعنی استنباط (inference)، نہ کہ خود مشاہدہ یا تجربہ: “It is as if here, too, what connects a scientist observation and experiment to the reality is a thing, which exists only in his mind that is, the capacity to make inferences, and not his ability to observe, or carry out experiments.” اسی لیے ایک سائنس داں نے اس کو ”ذہنی خاکہ“ قرار دیا ہے۔ وہ کہتا ہے: “Theories are mental pictures that explain known laws.” گویا بٹن دبانے سے بجلی کے بلب کا جلنا اگرچہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بٹن اور بلب میں کوئی خاص رشتہ ہے۔ مگر اس مظاہرے کے باوجود اصل رشتہ بہر حال غیر مرئی ہے، اور پھر بھی یہ ہمارا استنباط ہی ہے جو بٹن اور بلب کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ اس لیے بلب اور بٹن کی مشہور نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ امر پھر بھی مشتبہ رہے گا کہ دونوں کو مربوط کرنے والا سائنسی نظریہ بذاتِ خود حقیقی ہے یا غیر حقیقی۔ اب جس طرح یہ اشتباہ اور غلطی کا یہ امکان کسی سائنس داں کو نظریات قائم کرنے اور اس کو صحیح سمجھنے سے نہیں روکتا، اسی طرح کسی فلسفی یا کسی مذہبی شخص کو بھی مندرجہ بالا سبب کی بنا پر اسے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ نظریات قائم کرے اور ان کے صحیح سمجھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader