برٹرینڈ رسل کے خیالات
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
رسل کے نزدیک علم کی دو قسمیں ہیں۔ چیزوں کا علم (knoweledge of things) صداقتوں کا علم (knowledge of truths)۔ The Problems of Philosophy, p. 46 چیزوں کا علم دوسرے الفاظ میں حسی واقعات (sensible facts) کا علم ہے۔ مگر حسی واقعات ہی سب کچھ نہیں ہیں بلکہ ان کے پیچھے بھی کچھ صداقتیں چھپی ہوئی ہیں جو بذات خود ہمارے حواس میں نہیں آتیں۔ ان صداقتوں کو معلوم کرنے کا ذریعہ وہ استنباط (inference) ہے جو حسی واقعات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ رسل کے نزدیک استنباط صحیح (valid) ہو سکتا ہے۔ البتہ اس کو سائنسی استنباط (scientific inference) ہونا چاہیے۔ My Philosophical Development, p. 46 وہ تمام چیزیں (things) جن سے ہم استنباط کے بغیر براہ راست واقف ہوتے ہیں، ان کو رسل نے اعداد و شمار (data) کا نام دیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ہمارے تجرباتی حواس (observed sensations) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بصری (visual) سمعی (auditory) لمسی (tactile) وغیرہ۔ رسل کہتا ہے کہ کائنات کے بارے میں ہمارا جو سائنسی تصور ہے، وہ تجرباتی حواس کے ذریعے معلوم شدہ چیز نہیں ہے۔ بلکہ وہ تمام ترا ایک استنباطی دنیا (infered world) ہے۔ حتی کہ وہ کہتا ہے: “People's thoughts are in heads." (My Philosophical Development, p. 25) یعنی لوگوں کے تصورات صرف ان کے دماغوں میں ہیں۔ اس سے باہر ان کا کہیں وجود نہیں ہے۔ رسل اپنے تمام مطالعہ کے بعد جس نتیجہ پر پہنچا ہے، وہ یہ کہ تجربہ (experience) پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader