Urdu book · مذہب اور سائنس

برٹرینڈ رسل کے خیالات

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور اس لیے تجربیت (empiricism) کو بحیثیت فلسفہ کچھ اہم محدودیتوں (important limitations) کا پابند ہونا چاہیے۔ (صفحہ 191) ”میں نے پایا کہ تقریباً تمام فلسفیوں نے یہ سمجھنے میں غلطی کی ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو صرف تجربہ سے مستنبط کی جا سکتی ہے اور وہ کیا چیز ہے جو تجربہ سے مستنبط نہیں ہوتی۔“ (صفحہ 194) وہ لکھتا ہے: ”بدقسمتی سے نظری طبیعیات اب اس شاندار یقین سے نہیں بولتی جس سے وہ سترہویں صدی میں کلام کر رہی تھی۔ نیوٹن کا کام چار بنیادی تصورات پر مشتمل تھا ۔۔۔ مکان، زماں، مادہ اور طاقت۔ یہ چاروں کے چاروں جدید طبیعیات میں طاق نسیاں کی نذر ہو گئے ہیں۔ مکان اور زماں نیوٹن کے نزدیک ٹھوس اور مستقل چیزیں تھیں ۔ اب وہ مکاں بی زماں (space time) سے بدل گئی ہیں جو کہ (substantial) نہیں، بلکہ روابط کا ایک نظام ہے ۔ مادہ نے واقعات کے ایک سلسلہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ طاقت (force) اب انرجی (energy) بن چکی ہے، اور انرجی خود بھی ایک ایسی چیز ہے جس کو بقیہ مادہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ سبب (cause) جو کہ اس چیز کی فلسفیانہ شکل تھی، جس کو ماہرین طبیعیات فورس (force) کہتے ہیں وہ اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ میں تسلیم نہیں کروں گا کہ یہ مر چکا ہے۔ مگر اس میں پہلے کی طرح اب قوت باقی نہیں رہی ہے۔“ My Philosophical Development, p. 17 رسل اپنے بیان کے مطابق عمر بھر کی تحقیقات کے بعد آخری طور پر جس نتیجہ پر پہنچا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page