Urdu book · مذہب اور سائنس

برٹرینڈ رسل کے خیالات

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

دلائل (logical arguments) ہیں اور ان سے خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے۔ اور یہ کہ یہ اور اسی قسم کے دوسرے دلائل کو بہت سے بڑے بڑے فلسفیوں نے قبول کیا ہے۔ مگر وہ منطق جس پر ان روایتی استدلالات کی بنیاد قائم ہے، وہ ارسطو کی قدیم منطق ہے جس کو عملاً اب تمام علمائے منطق رد کر چکے ہیں، سوائے مذہبی لوگوں کے۔“ اس کے بعد رسل لکھتا ہے : ”ان دلائل میں ایک دلیل ایسی ضرور ہے جو خالص منطقی (purely logical) نہیں ہے۔ میری مراد ہے نظم کائنات کی دلیل (argument from design) مگر ڈارون اس دلیل کو بالکل ختم کر چکا ہے۔ Why I am not a Christian, p. 9 اس اقتباس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ نظم کائنات کی دلیل کو رسل نے منطقی طور پر ایک جائز دلیل (valid argument) تسلیم کیا ہے۔ مگر اصولی طور پر اس کی منطقی معقولیت تسلیم کرتے ہوئے رسل کا کہنا ہے کہ ڈارونزم نے اس کی استدلالی حیثیت کو برباد کر دیا ہے یا کم از کم اس کی اہمیت بہت گھٹا دی ہے۔ رسل کے اس بیان پر ہم کسی قدر وضاحت سے روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔ رسل کے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ مذہب کا دعویٰ ہے کہ کائنات میں ایک نظم (design) پایا جاتا ہے، اور یہ نظم اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی شعور ہو، جس نے اس کو ”نظم“ کی صورت دی ہو۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کائنات بے ترتیب ڈھیر (pile of garbage) کی شکل میں نظر آتی۔ رسل کے نزدیک یہ استدلال اصولی طور پر صحیح ہے۔ مگر پھر وہ کہتا ہے کہ ”ڈارون نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page