Urdu book · مذہب اور سائنس

برٹرینڈ رسل کے خیالات

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

حیاتیاتی مظاہر کے مطالعہ سے ثابت کیا ہے کہ زندگی کی مختلف اقسام جو منظم اور بامعنی شکل میں زمین پر نظر آتی ہیں وہ دراصل کروڑوں برس میں مادی حالات کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ مثلاً زرافہ کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ بکری جیسے جانور نے طویل فطری عمل کے بعد خود بخود لمبی گردن والے زرافہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہاں مجھے ڈارونزم پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں کرنی ہے۔ البتہ میں یہ کہوں گا کہ رسل نے استدلال کی اصولی معقولیت تسلیم کرتے ہوئے جس بنیاد پر اس کو رد کیا ہے، وہ نہایت کمزور ہے۔ پہلی بات یہ کہ ڈارونزم ابھی تک ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ اگر اس سے کچھ ثابت ہوا ہے تو صرف یہ کہ زندگی کی مختلف اقسام بیک وقت وجود میں نہیں آئیں بلکہ مختلف اقسام مختلف وقتوں میں پائی گئی ہیں۔ نیز یہ ایک خاص طرح کی زمانی ترتیب ہے۔ یعنی زندگی کی سادہ اقسام پہلے اور پیچیدہ اقسام اس کے بعد ۔ مگر یہ بات آج بھی قطعی طور پر غیر ثابت شدہ ہے کہ زیادہ پیچیدہ اور بامعنی اقسام دراصل پچھلے زمانہ کی سادہ اقسام حیات ہی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں جو مادی عمل کے نتیجہ میں ان کے اندر سے خود بخود وجود میں آ گئیں۔ پہلی بات تو بلاشبہ مشاہدہ سے اخذ کی گئی ہے۔ مگر یہ دوسری بات قطعی طور پر علمائے ارتقا کا اپنا مفروضہ ہے جس کی بنیاد نہ حقیقۃً کسی مشاہدہ پر ہے اور نہ کسی بھی درجہ میں اس کو (demonstrate) کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ رسل کے استدلال کا جواز اسی دوسرے پہلو کے ثبوت پر موقوف ہے۔ نظریہ ارتقا کی یہ کمزوری خود ارتقا پسند علماء تسلیم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر سر آرتھر کیتھ نے کہا ہے: “Evolution is unproved and unprovable. We believe it

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page