Urdu book · مذہب اور سائنس

کائنات کی مشینی تعبیر

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات کی مشینی تعبیر اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی سائنس نے جب یہ دریافت کیا کہ کائنات میں علت اور معلول (cause and effect) کا ایک نظام ہے تو اس زمانہ کے ملحد مفکرین نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کے نزدیک یہ دریافت خدا کا سائنسی بدل تھا۔ اگر چہ اس قانون کو دریافت کرنے والے سائنس دانوں کے لیے اس کے یہ معنی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر نیوٹن نے کہا تھا کہ یہ خدا کا طریق کار ہے۔ خدا اسباب و علل کے ذریعے کائنات میں اپنی منشاء کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر وہ لوگ جو سائنسی دریافتوں کی روشنی میں فلسفہ کی تشکیل کر رہے تھے، انہوں نے اس کے اندر الحاد کا ثبوت پالیا۔ اور اس کی بنیاد پر ایک پورا نظام فکر بنا ڈالا۔ اس طرح وہ نظریہ وجود میں آیا جس کو کائنات کی مشینی تعبیر کہا جاتا ہے۔ مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ کائنات کے تمام واقعات کسی خارجی مداخلت کے بغیر محض مادی اسباب کے تحت واقع ہوتے ہیں اور اس طرح پوری کائنات علت و معلول کی ایک مسلسل زنجیر میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ انیسویں صدی عیسوی کا مسلمہ تھا۔ 1874ء میں چھپنے والی ایک انسائیکلو پیڈیا کے الفاظ ملاحظہ ہوں: طبعی فلاسفہ کیمسٹری اور فزیالوجی کے ماہرین یقین رکھتے ہیں کہ ایک سبب سے ہمیشہ یکساں نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ اور ایک مثال میں اگر ایک تصور کامیاب ہو تو ان کو اطمینان ہے کہ ہمیشہ یہی کامیابی حاصل ہوگی۔ اس لیے طبعی علوم میں اب قانون تعلیل (law of causation) کے بارے میں کوئی اختلاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page