Urdu book · مذہب اور سائنس

کائنات کی مشینی تعبیر

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں رہ گیا ہے۔ اس بات میں اختلاف صرف مابعدالطبیعیات حلقہ میں پایا جاتا ہے۔“ Chamber's Encyclopedia, 1874, v. II, p. 691 مگر ان مفکرین کی یہ خوشی زیادہ دیر تک باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی سائنس کے علم میں ایسے بہت سے حقائق وجود میں آئے جو کسی طرح مشینی تعبیر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ مثال کے طور پر ریڈیم ایک تابکار (radio-active) عنصر ہے۔ اس کے الیکٹران خود بخود فطری عمل کے تحت مسلسل ٹوٹتے رہتے ہیں۔ یہ معلوم کرنے کے لیے بے شمار تجربے کیے گئے کہ اس تابکاری کا سبب کیا ہے۔ مگر ہر تجربہ ناکام رہا۔ ہمیں آج بھی نہیں معلوم کہ ریڈیم کے ایک ٹکڑے میں کوئی خاص الیکٹران جب اپنے ایٹمی نظام سے ٹوٹ کر نکلتا ہے تو اس کا سبب کیا ہوتا ہے۔ اسی طرح مثال کے طور پر مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس کی توجیہہ میں سائنس نے بہت سے نظریات قائم کیے ہیں مگر ایک سائنس داں اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: ”سچی بات یہ ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ مقناطیس کیوں لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ شاید اس لیے کہ خالق نے اس کو یہی حکم دیا ہے۔“ یہ صرف ریڈیم اور مقناطیس کی بات نہیں ہے۔ گہرے تجزیہ نے بتایا ہے کہ ماضی میں جن باتوں کو کسی واقعہ کا سبب مان لیا گیا تھا، وہ بھی اصل واقعہ کا محض سطحی مطالعہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی واقعہ کے بارے میں نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم رات کو سوتے ہیں تو ہمیں نیند کیوں آتی ہے۔ طویل بحث ومباحثہ کے بعد اب سائنس کی دنیا میں تسلیم کر لیا گیا ہے کہ قانون تعلیل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page