Urdu book · مذہب اور سائنس

کائنات کی مشینی تعبیر

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بعید ترین گوشہ میں نظام شمسی کو وجود دیا، پھر وہ کون سی منطق تھی جس سے ہمارے کرۂ زمین پر وہ عجیب و غریب تبدیلیاں ہوئیں جن کی وجہ سے یہاں زندگی کا قیام ممکن ہوسکا اور جن تبدیلیوں کا سراغ آج تک کائنات کی بے شمار دنیاؤں میں سے کسی ایک دنیا میں معلوم نہ کیا جاسکا ہے، پھر وہ کون سی منطق تھی جو ایک خاص مرحلہ پر بے جان مادہ سے جاندار مخلوق پیدا کرنے کا سبب بن گئی۔ کیا اس بات کی کوئی معقول توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ زمین پر زندگی کس طرح اور کیوں وجود میں آئی اور کس قانون کے تحت مسلسل پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے ایک چھوٹے سے رقبہ میں حیرت انگیز طور پر وہ تمام چیزیں پیدا کردیں، جو ہماری زندگی اور ہمارے تمدن کے لیے درکار تھیں، پھر وہ کون سی منطق ہے جو ان حالات کو ہمارے لیے باقی رکھے ہوئے ہے۔ کیا محض ایک اتفاق کا پیش آ جانا اس کی کافی وجہ تھی کہ یہ سارے واقعات اس قدر حسن ترتیب کے ساتھ مسلسل پیش آتے چلے جائیں اور اربوں و کھربوں سال تک ان کا سلسلہ جاری رہے اور پھر بھی ان میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ کیا اس بات کی کوئی واقعی توجیہہ کی جاسکتی ہے کہ محض اتفاق سے پیش آجانے والے واقعہ میں لزوم کی صفت کہاں سے آگئی اور اتنے عجیب و غریب طریقہ پر مسلسل ارتقا کرنے کارجان اس میں کہاں سے پیدا ہوگیا۔ یہ اس سوال کا جواب تھا کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اس کا چلانے والا کون ہے، وہ کون ہے جو اس عظیم کارخانے کو اس قدر منظم طریقہ پر حرکت دے رہا ہے۔ اس توجیہہ میں جس کو کائنات کا خالق قرار دیا گیا ہے، اسے کائنات کا حاکم نہیں قرار دیا جاسکता۔ یہ تو توجیہہ عین اپنی ساخت کے اعتبار سے دو خدا چاہتی ہے۔ کیوں کہ حرکت اول کی توجیہہ کے لیے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page