Urdu book · مذہب اور سائنس

کائنات کی مشینی تعبیر

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

بودی اور کمزور تو جیہہ ہے کہ خود سائنس دانوں کو بھی اس پر کبھی شرح صدر حاصل نہ ہوسکا۔ یہ تو جیہہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ اسے نہیں معلوم کہ کائنات کو پہلی بار کس نے حرکت دی، مگر اس کے باوجود اس کا دعوی ہے کہ اس نے کائنات کے محرک اول کو معلوم کر لیا ہے اور اس محرک اول کا نام اس کے نزدیک اتفاق ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کائنات میں صرف غیر متحرک مادہ تھا، اس کے سوا کوئی چیز موجود تھی تو یہ عجیب و غریب اتفاق کہاں سے وجود میں آگیا جس نے ساری کائنات کو حرکت دے دی جس واقعہ کے اسباب نہ مادہ کے اندر موجود تھے اور نہ مادہ کے باہر، وہ واقعہ وجود میں آیا تو کیسے آیا۔ اس تو جیہہ کا یہ نہایت دلچسپ تضاد ہے کہ وہ ہر واقعہ سے پہلے ایک واقعہ کا موجود ہونا ضروری قرار دیتی ہے جو بعد کو ظاہر ہونے والے واقعہ کا سبب بن سکے، مگر اس تو جیہہ کی ابتدا ایک ایسے واقعہ سے ہوتی ہے جس سے پہلے اس کا سبب موجود نہیں بی یہی وہ بے بنیاد مفروضہ ہے جس میں کائنات کی اتفاقی پیدائش کے نظریہ کی پوری عمارت کھڑی کر دی گئی ہے۔ پھر یہ کائنات اگر محض اتفاق سے وجود میں آئی ہے تو کیا واقعات لازمی طور پر وہی رخ اختیار کرنے پر مجبور تھے جو انہوں نے اختیار کیا۔ کیا اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا۔ کیا ایسا ممکن نہیں تھا کہ ستارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہو جائیں۔ مادہ میں حرکت پیدا ہو جانے کے بعد کیا یہ ضروری تھا کہ یہ محض حرکت نہ رہے بلکہ ایک ارتقائی حرکت بن جائے اور حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ موجودہ کائنات کو وجود میں لانے کی طرف دوڑنا شروع کر دے۔ آخر وہ کون سی منطق تھی جس نے ستاروں کے وجود میں آتے ہی ان کو لامناہی خلا میں نہایت باقاعدگی کے ساتھ پھر انا شروع کر دیا، پھر وہ کون سی منطق تھی جس نے کائنات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page