Urdu book · مذہب اور سائنس

کچھ نئی حقیقتیں

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ نئی حقیقتیں علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب ’’الغزالی‘‘ کے دوسرے حصہ میں ’’معاد یا حالات بعد الموت‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں ... ’’مذہب کی روح رواں جو کچھ کہو، معاد (آخرت) کا اعتقاد ہے۔ مذہب میں جو کچھ تاثیر ہے اور افعال انسانی پر مذہب کا جو اثر پڑتا ہے، وہ اسی اعتقاد کی بدولت ہے۔ لیکن جس قدر وہ مہتم بالشان ہے اسی قدر عسیر التصور (unthinkable) ہے۔ ایک بدوی شاعر الحاد کے لہجہ میں کہتا ہے: حَيَاةٌ ثُمَّ مَوْتٌ ثُمَّ بَعْثٌ زندگی، پھر موت، پھر دوبارہ جی اٹھنا! حدیثُ خرافَةٍ يا أُمَّ عمرو میری بیگم! یہ تو خرافات کی باتیں ہیں اس مرحلہ میں جو مشکلیں ہیں ان میں پہلا اور سب سے مشکل بقائے روح کا مسئلہ ہے۔ یعنی یہ ثابت کرنا کہ روح جسم سے جدا کوئی چیز ہے۔ مادیین کا خیال ہے کہ روح کوئی جداگانہ چیز نہیں، بلکہ جس طرح دواؤں کو ترکیب دینے سے ایک مزاج خاص پیدا ہو جاتا ہے، یا تاروں کی خاص ترکیب سے خاص خاص راگ پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح عناصر کے خاص طور پر ترکیب پانے سے ایک مزاج خاص پیدا ہو جاتا ہے جو ادراک اور تصور کا سبب ہوتا ہے اور اسی کا نام روح ہے۔ روح کے ثابت کرنے کے بعد دوسرا مرحلہ اس کی بقا کا ثابت کرنا ہے، یعنی یہ کہ جسم کے فانی ہونے پر وہ باقی رہ سکتی ہے۔‘‘ (صفحہ 72-171) اس کے بعد علامہ شبلی مضمون صغیر اور مضمون کبیر سے ان مباحث پر امام غزالی کے خیالات نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page