کچھ نئی حقیقتیں
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
امام صاحب نے روح کی جو حقیقت بیان کی اور اس پر جو دلائل پیش کیے، یونانیوں سے ماخوذ ہیں۔ ارسطو نے اتولوجیا میں بعینہ یہ تقریر کی ہے اور بو علی سینا نے اس کو مختلف پیرایوں میں آب و رنگ دے کر ادا کیا ہے، لیکن یہ امر بظاہر تعجب انگیز ہے کہ جو سب سے مقدم امر تھا، یعنی روح کا اثبات، امام صاحب نے اسی کو چھوڑ دیا۔ روح کا جوہر ہونا، غیر جسمانی ہونا، یہ فرعی امور ہیں۔ پہلے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ روح کوئی شے بھی ہے یا نہیں۔“ (ص 174) اس کے بعد اپنی طرف سے لکھتے ہیں... ”اصل یہ ہے کہ روح کا وجود ایک وجدانی امر ہے، غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادراک و تعقل محض مادہ کا کام نہیں۔ مادہ ایک بے حس، بے جان اور لایعقل چیز ہے۔ دقیق خیالات اور علوم و فنون مادہ سے انجام نہیں پا سکتے۔ بلکہ کوئی اور جوہر لطیف ہے جس سے یہ کرشمے سرزد ہوتے ہیں اور اسی کا نام روح ہے۔“ اس کے بعد لکھتے ہیں: ”لیکن یہ استدلال وجدانی ہے۔ (بو علی سینا نے روح کے اثبات پر اشارات میں لمبی چوڑی دلیل پیش کی ہے۔ لیکن وہ یونانیوں کے عام دلائل کی طرح صرف لفظوں کا کھیل ہے) اگر کوئی منکر انکار پر آمادہ ہو اور کہے کہ... ”تم نے جو کچھ کہا عین دعویٰ کا اعادہ ہے، دلیل نہیں۔ ممکن ہے مادہ ہی ایک خاص ترکیب پا کر ان نیرنگیوں کا مظہر ہو۔ کلوں سے جو عجیب و غریب حرکتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ارغنوں سے جو دلکش اور مؤثر نغمے پیدا ہوتے ہیں، ان میں روح کا کون سا شائبہ ہے۔“ تو ہم دلیل سے اس کی زبان بند نہیں کر سکتے۔ یہی سبب تھا کہ امام صاحب نے روح کے ثبوت پر کوئی منطقی دلیل نہیں پیش کی۔“ (صفحہ 175) مولاناشبلی نعمانی مرحوم نے اس بحث کو یہیں ختم کر دیا ہے اور ایک عالم کی 1901ء کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader