Urdu book · مذہب اور سائنس

کچھ نئی حقیقتیں

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

صلاحیتوں کا تجز یاتی مطالعہ ہے۔ اس قسم کی تحقیقات کے لیے سب سے پہلا ادارہ 1882 ء میں انگلینڈ میں قائم ہوا، اور 1889 ء میں اس نے سترہ ہزار اشخاص سے رابطہ قائم کر کے وسیع پیمانے پر اپنی تحقیقات شروع کر دیں ۔ یہ اب بھی مطالعہ نفسیات کا ادارہ (Society for Psychical Reserch) کے نام سے موجود ہے اور اسی نوعیت کے دوسرے ادارے دوسرے ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان اداروں نے مختلف مظاہروں اور تجزیات کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی شخصیت کسی پراسرار شکل میں باقی رہتی ہے۔ فلسفہ نفسیات کے بہت سے ماہرین جنہوں نے ان شواہد کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کیا ہے وہ زندگی بعد موت کو بطور واقعہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ براؤن یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر سی، جے ، ڈو کاس (C. J. Ducasse) نے اپنی کتاب کے سترہویں باب میں زندگی بعد موت کے تصور کا فلسفیانہ اور نفسیاتی جائزہ لیا ہے ۔ پروفیسر موصوف اگر چہ مذہب کے معنوں میں اخروی زندگی کے تصور پر عقیدہ نہیں رکھتے، مگر ان کا خیال ہے کہ ایسے شواہد موجود ہیں کہ مذہب کے عقیدہ سے الگ کر کے زندگی کی بقاء کو ہمیں ماننا پڑتا ہے۔ اس باب کے آخری حصہ میں وہ سائییکی کل ریسرچ کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے بعد لکھتے ہیں : " کچھ بہت ہی ذہین اور ذی علم افراد جنہوں نے سالہا سال تک نہایت تنقیدی نظر سے متعلقہ شہادتوں کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کم از کم کچھ شواہد ایسے ضرور ہیں جن میں صرف بقائے روح کا فرضيه (survival hypothesis) ہی معقول اور ممکن نظر آتا ہے ، ان کی کوئی دوسری توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بعد زندگی کا عقیدہ جس کو بہت سے لوگ مذہبی طور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page