کچھ نئی حقیقتیں
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
روح جسم ہی کا ایک ظہور خاص ہوتی تو جسم کی طرح اس کو بھی لازما وقت اور فاصلہ کے قوانین کا پابند ہونا چاہیے تھا اور جب کہ تجربہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہے تو اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ روح اپنی نوعیت میں جسم سے مختلف ایک چیز ہے جو اس سے الگ اپنا مستقل وجود رکھتی ہے۔ جسم سے روح کا تعلق مشین اور حرکت یا باجے اور راگ کا نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو جس طرح حرکت اور راگ پر بعینہ وہی قوانین مترتب ہوتے ہیں جو مشین اور باجے پر مترتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح روح پر بھی یقینا انہیں قوانین کا ترتب ہوتا جو جسم کے اوپر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دوسری چیز جس کا میں یہاں حوالہ دینا چاہتا ہوں وہ سائیکلیکل تحقیقات (psychical research) کے نتائج ہیں، جو خالص تجرباتی اور مشاہداتی سطح پر موت کے بعد زندگی کے وجود کو ثابت کرتے ہیں۔ اس میں ہمارے نقطہ نظر سے مزید دلچسپی کی بات ہے کہ یہ بقائے محض کو ثابت نہیں کرتے بلکہ عین اس شخصیت کی بقا کو ثابت کرتے ہیں جس سے ہم موت سے پہلے واقف تھے۔ انسان کی بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جو بذات خود تو پہلے سے موجود تھیں، مگر ان پر سائنسی انداز سے غور و فکر نہیں ہوا تھا۔ مثلاً خواب دیکھنا انسان کی قدیم ترین خصوصیت ہے۔ مگر جدید دور میں خواب کے مطالعہ سے جو نفسیاتی حقائق معلوم کیے گئے ہیں، ان سے قدیم دور کے لوگ نا آشنا تھے۔ اسی طرح اور بہت سے مظاہر ہیں جن کے متعلق موجودہ زمانہ میں باقاعدہ اعداد و شمار جمع کیے گئے اور سائنسی انداز سے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ اس طرح جدید مطالعہ کے ذریعہ ان واقعات سے نہایت اہم نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اسی میں سے ایک سائیکلیکل ریسرچ ہے جو جدید نفسیات کی ایک شاخ ہے اور جس کا مقصد انسان کی مافوق العادت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader