Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

آۓ گی۔ اس طرح خدا کا خیال ان کی نظر میں بے ضرورت چیز بن گیا اور جو خیال بے ضرورت ہو جاۓ اس کا بے بنیاد ہونا لازمی ہے۔ یہ دعویٰ جب کیا گیا، اس وقت بھی اگرچہ وہ علمی حیثیت سے نہایت کمزور تھا۔ مگر اب تو خود سائنس نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے پاس اس قسم کا دعویٰ کرنے کے لیے اطمینان بخش دلائل موجود نہیں ہیں۔ سائنس کی وہ کیا دریافت تھی جس میں لوگوں کو نظر آیا کہ اب خدا کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔ وہ خاص طور پر یہ تھا کہ سائنس نے معلوم کیا کہ کائنات کچھ خاص قوانین کی تابع ہے۔ قدیم زمانے کا انسان سادہ طور پر یہ سمجھتا تھا کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کرنے والا خدا ہے۔ مگر جدید ذرائع اور جدید طرز تحقیق کی روشنی میں دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ ہر واقعہ کے پیچھے ایک ایسا سبب موجود ہے جس کو تجربہ کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً نیوٹن کے مشاہدے میں نظر آیا کہ آسمان کے تمام ستارے اور سیارے کچھ ناقابل تغیر قوانین میں بندھے ہوۓ ہیں اور انہیں کے تحت کرتے ہیں۔ ڈارون کی تحقیق نے اسے بتایا کہ انسان کسی خاص تخلیقی حکم کے تحت وجود میں نہیں آیا بلکہ ابتدائی زمانے کے کیڑے مکوڑے عام مادی قوانین کے تحت ترقی کرتے کرتے انسان بن گئے ہیں۔ اسی طرح مطالعہ اور تجربہ کے بعد زمین سے لے کر آسمان تک سارے واقعات ایک معلوم نظام کے تحت ظاہر ہوتے ہوۓ نظر آۓ جس کو قانونِ فطرت (law of nature) کا نام دیا گیا۔ قانون فطرت کا یہ عمل اس درجہ مؤثر تھا کہ اس کے بارے میں پیشگی خبر دی جا سکتی تھی۔ اس دریافت کا مطلب یہ تھا کہ جس کائنات کو ہم سمجھتے تھے کہ وہاں خدا کی کارفرمائی ہے، وہ کچھ مادی اور طبیعیاتی قوانین کی کارفرمائیوں کے تابع تھی۔ جب ان قوانین کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page