Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

استعمال کیا گیا اور اس کے کچھ نتائج بھی برآمد ہوئے تو انسان کا یقین اور زیادہ بڑھ گیا۔ جرمن فلسفی کانٹ نے کہا ”مجھے مادہ مہیا کرو اور میں تم کو بتا دوں گا کہ دنیا اس مادے سے کس طرح بنائی جاتی ہے۔“ Give me matter and I shall demonstrate how the world is made out of matter. ہیکل (Haeckel) نے دعویٰ کیا کہ ”پانی“ کیمیاوی اجزا اور وقت ملے تو وہ ایک انسان کی تخلیق کر سکتا ہے۔ نٹشے نے اعلان کر دیا کہ ”اب خدا مر چکا ہے“ (God is dead)۔ اس طرح یہ یقین کر لیا گیا کہ اس کائنات کا خالق اور مالک کوئی زندہ اور صاحب ذہن وارادہ ہستی نہیں ہے۔ بلکہ کائنات از اول تا آخر ایک مادی کائنات ہے۔ کائنات کی ساری حرکتیں اور اس کے تمام مظاہر خواہ وہ ذی روح اشیاء سے متعلق ہوں یا بے روح اشیاء کے بارے میں ہوں، اندھے مادی عمل کے سوا اور کچھ نہیں۔ سائنس نے جس دنیا کو دریافت کیا اس میں کہیں اس خدا کی کارفرمائی نظر نہیں آتی تھی جو تمام مذاہب کی بنیاد ہے۔ پھر خدا کو مانا جائے تو کس لیے مانا جائے۔ اگرچہ اس دریافت کے ابتدائی تمام ہیرو خدا کو ماننے والے لوگ تھے مگر دوسرے لوگوں کے سامنے جب یہ تحقیق آئی تو انہوں نے پایا کہ اس دریافت نے سرے سے خدا کے وجود ہی کو بے معنی ثابت کر دیا ہے۔ کیونکہ واقعات کی توجیہہ کے لیے جب خود مادی دنیا کے اندر اسباب و قوانین مل رہے ہوں تو پھر اس کے لیے مادی دنیا سے باہر ایک خدا کو فرض کرنے کی کیا ضرورت۔ انہوں نے کہا کہ جب تک دوربین نہیں بنی تھی اور ریاضیات نے ترقی نہیں کی تھی ۔ اس وقت انسان نہیں جان سکتا تھا کہ سورج کیسے نکلتا ہے اور کیسے ڈوبتا ہے۔ چنانچہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے اس نے یہ فرض کر لیا کہ کوئی خدائی طاقت ہے، جو ایسا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page