مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
نظر یہ جو دو سو سال تک سائنس کی دنیا پر حکمران رہا، وہ جدید مطالعہ کے بعد ناقص پایا گیا ہے۔ اگرچہ سابقہ فکر کی جگہ ابھی تک کوئی مکمل نظریہ نہیں آسکا ہے مگر یہ واضح ہے کہ نئے رجحان کے فلسفیانہ تقاضے اس سے بالکل مختلف ہیں جو پچھلے نظریے کے تھے۔ اب یہ دعویٰ نہیں رہا کہ سائنٹفک طریق مطالعہ ہی حقیقت کو معلوم کرنے کا واحد صحیح طریقہ ہے۔ ممتاز سائنس داں حیرت انگیز طور پر اصرار کر رہے ہیں کہ سائنس ہم کو صداقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality. سائنسی رجحان میں یہ تبدیلی اچانک پیدا ہوئی ہے۔ صرف سو برس گزرے جب ٹنڈل (Tyndall) نے اپنے خطبہ بلفاسٹ (belfast address) میں اعلان کیا تھا کہ سائنس تنہا انسان کے تمام اہم معاملات سے بحث (deal) کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس قسم کے خیالات اس مفروضہ یقین کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے کہ حقیقت تمام کی تمام صرف مادہ اور حرکت (matter and motion) پر مشتمل ہے۔ مگر فطرت کو مادہ اور حرکت کی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی ساری کوشش ناکام ثابت ہوئی اٹھارہویں صدی کے آخر میں یہ کوشش اپنے عروج پر تھی جب لاپلاس (Laplace) نے یہ کہنے کی جرات کی کہ ایک عظیم ریاضی داں جو ابتدائی سحابیہ (nebula) میں ذات کے انتشار کو جانتا ہو وہ دنیا کے مستقبل کی پوری تاریخ کو پیشگی بتا سکتا ہے۔ اس وقت یہ یقین کر لیا گیا تھا کہ نیوٹن کا نظریہ سارے علوم کی کنجی ہے۔ نیوٹن کے نظریے کی غلطی پہلی بار اس وقت ظاہر ہوئی جب سائنس دانوں نے روشنی کی مادی تشریح کرنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش انہیں ایتھر (ether) کے عقیدے تک لے گئی، جو بالکل مجہول اور ناقابل بیان عنصر (element) تھا۔ کچھ نسلوں تک یہ عجیب و

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader