Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

اگرچہ ابھی تک بذات خود یہ بات غیر ثابت شدہ ہے کہ انواع حیات فی الواقع اسی طرح وجود میں آئی ہیں جیسا کہ ارتقا پسند علما ء بتاتے ہیں۔ تا ہم اگر اس کو بلا بحث مان لیا جائے جب بھی اس سے مذہبی عقیدے کے تزلزل کا سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ انواع حیات اگر بالفرض ارتقائی عمل کے تحت وجود میں آئی ہوں جب بھی یکساں درجہ کی قوت کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ خدائی تخلیق کا طریقہ ہے، نہ کہ اندھے مادی عمل کا خود بخود نتیجہ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشینی ارتقا (mechanical evolution) کو نہایت آسانی کے ساتھ تخلیقی ارتقا (creational evolution) ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اور سائنس کے حوالے سے مذہب کی مخالفت کرنے والوں کے پاس اس کی تردید کی کوئی واقعی بنیاد نہیں ہوگی۔ مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس نے بیسویں صدی میں پہنچ کر اپنے سابقہ یقین کو کھودیا ہے۔ آج جب کہ نیوٹن کی جگہ آئن سٹائن نے لے لی ہے اور پلانک اور ہیزن برگ نے لاپلاس کے نظریات کو منسوخ کر دیا ہے، اب مخالفین مذہب کے لیے، کم از کم علمی بنیاد پر ، اس قسم کا دعویٰ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ نظریہ اضافیت (relativity) اور کوائنم تھیوری نے خود سائنس دانوں کو اس نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کر لیں کہ یہ ناممکن ہے کہ سائنس میں مشاہد (Observer) کو مشاہدہ (observed) سے الگ کیا جاسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی چیز کے صرف چند خارجی مظاہر کو دیکھ سکتے ہیں، اس کی اصل حقیقت کا مشاہدہ نہیں کر سکتے۔ بیسویں صدی میں سائنس کے اندر جو انقلاب ہوا ہے اس نے خود سائنسی نقطہ نظر سے مذہب کی اہمیت ثابت کردی ہے۔ سائنس میں جو چیز جدید انقلاب کہی جاتی ہے، وہ اس واقعہ پر مشتمل ہے کہ نیوٹن کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page