Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ کہ سائنس صرف ڈھانچہ کی معلومات تک محدود ہے، بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت ابھی پورے طور پر معلوم شدہ نہیں ہے۔ اب یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے احساسات یا خدا سے اتصال کا عارفانہ تجربہ اپنا کوئی خارجی جواب (objective counterpart) نہیں رکھتا۔ یہ قطعی ممکن ہے کہ ایسا کوئی جواب خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احساسات اب محض مظاہر فریب (illusory phenomenon) نہیں کہے جاسکتے جیسا کہ سمجھا جاتا تھا۔ نئی سائنسی دنیا میں مذہبی عارف بھی ایک حقیقت کے طور پر رہ سکتا ہے۔ The Limitations of Sciencem, pp. 138-42 سائنٹفک فلاسفہ نے اس قسم کی تشریحات شروع کر دی ہیں۔ مارٹن وائٹ (Morton White) کے الفاظ میں بیسویں صدی میں فلسفیانہ ذہن رکھنے والے سائنس دانوں نے ایک نئی جنگ (Crusade) کا آغاز کر دیا ہے۔ جس میں وائٹ ہیڈ، ایڈنگٹن اور جینز کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں "ان علما کا فکر صریح طور پر کائنات کی مادی تعبیر کی نفی کرتا ہے۔ مگر ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے خود جدید طبیعیات اور ریاضیات کے نتائج کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں وہی الفاظ صحیح ہیں جو مارٹن وائٹ نے وائٹ ہیڈ کے متعلق لکھے ہیں: "He is a heroic thinker who tries to beard the lions of intellectualism, materialism and positivism in their own bristling den.” (p. 84) “The Domain of Physical Science, essay in Science, Religion and Reality” (The Age of Analysis, p. 84) یعنی وہ ایک بلند ہمت مفکر ہے جس نے مادہ پرستی کے شیروں کو عین ان کے بھٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page