Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

میں للکارا ہے۔ انگریز ماہر ریاضیات اور فلسفی الفرڈ نارتھ وہائٹ ہید (1947-1861) کے نزدیک جدید معلومات یہ ثابت کرتی ہیں کہ فطرت بے روح مادہ نہیں، بلکہ زندہ فطرت ہے: Nature is alive, p. 84 انگریز ماہر فلکیات سر آرتھر ایڈنگٹن (1944-1882) نے موجودہ سائنس کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کائنات کا مادہ ایک شے ذہنی ہے: "The stuff of the world is mind-stuff." (p. 146) ریاضیاتی طبیعیات کا انگریز عالم سر جیمز جنیز (1946-1877) جدید تحقیقات کی تعبیر ان الفاظ میں کرتا ہے کہ کائنات، مادی کائنات نہیں بلکہ تصوراتی کائنات ہے: "The universe is universe of thought." (p. 134) یہ انتہائی مستند سائنس دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ جے ڈبلیو این سولیون کے الفاظ میں یہ ہے کہ کائنات کی آخری ماہیت ذہن ہے: "The ultimate nature of the universe is mental." (p. 145) آخری حقیقت ذہن ہے یا مادہ۔ یہ فلسفیانہ الفاظ میں دراصل یہ سوال ہے کہ کائنات محض مادہ کے ذاتی عمل کے طور پر خود بخود بن گئی ہے یا کوئی غیر مادی ہستی ہے جس نے بالا ارادہ اسے تخلیق کیا ہے جیسے کسی مشین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنے آخری تجربے میں محض لوہے اور پٹرول کا ایک اتفاقی مرکب ہے، گویا یہ کہنا ہے کہ مشین سے پہلے صرف لوہا اور پٹرول تھا اور اس نے خود ہی کسی اندھے عمل کے ذریعہ محض اتفاق سے مشین کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے کہ مشین اپنے آخری تجزیے میں انجینئر کا ذہن ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مشین سے پہلے ایک ذہن تھا جس نے مادہ سے الگ اس کے ڈیزائن کو سوچا اور بالا ارادہ اسے تیار کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page