دیباچہ
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب کی تعلیمات کو ان کی قطعی اور یقینی صورت میں جاننے کا ذریعہ وحی ہے۔ خدا کے پیغمبروں نے ان تعلیمات کو براہ راست خالق کائنات سے لے کر انسانوں تک پہنچایا۔ پیغمبروں کی دعوت پر جب ان کے مخاطبین نے شک و شبہ کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا: قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10)۔ یعنی کیا تم اس خدا کے بارے میں شک کرتے ہو جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں نے اپنے پیغام کی صداقت پر جو دلیل پیش کی وہ فطرت کی دلیل تھی۔ زمین و آسمان کی صورت میں جو مظاہر ہمارے سامنے پھیلے ہوئے ہیں، وہ مشاہداتی طور پر اس تعلیم کے حق میں گواہی دے رہے ہیں جو پیغمبروں نے نظری طور پر پیش کی۔ یہ دلیل آج بھی پوری طرح مذہب کی تائید میں موجود ہے۔ پیغمبروں کا زمانہ سائنسی دور سے پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں آدمی زمین و آسمان کے مظاہر کے بارے میں بہت کم باتیں جانتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب کہ زمین و آسمان کے بارے میں انسان کی معلومات میں کروڑوں گنا اضافہ ہو گیا ہے، اب بھی اس استدلال کی اہمیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ جدید تحقیقات نے پیغمبروں کی تعلیم کی صداقت کو اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ ثابت کیا ہے۔ جدید علم نے کائنات کی جو تصویر بنائی ہے وہ ایک حد درجہ محکم اور منظم کائنات ہے۔ اس سے اولاً یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایک قسم کا مشینی نظام ہے جو اسباب وعلل کے زور پر اپنے آپ چل رہا ہے لیکن گہرے مطالعہ نے اس مفروضہ کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ معلوم ہوا کہ کائنات کا نظام محکم ہونے کے ساتھ مکمل طور پر غیر مشینی ہے۔ وہ ہر لمحہ ایک چلانے والے اور انتظام کرنے والے کا محتاج ہے۔ اسی طرح معلومات کے اضافہ سے یہ فرض کر لیا گیا کہ انسان کا اپنا علم ہی ساری حقیقتوں کو جاننے کے لیے کافی ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader