Urdu book · مذہب اور سائنس

دیباچہ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے گا، وحی الہام کا سہارا لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔ مگر تحقیق نے اس کو بھی بے بنیاد ثابت کر دیا۔ معلوم ہوا کہ کائنات کے کلی علم تک پہنچنے کے لیے انسان کی صلاحیتیں فیصلہ کن طور پر ناکافی ہیں۔ ہمارے لیے خارجی معلم کا سہارا لینے کے سوا دوسری کوئی صورت نہیں۔ اس طرح جدید علم ہر لحاظ سے مذہب کی بنیاد کو مضبوط کرتا جا رہا ہے، اس نے کسی بھی اعتبار سے اس کو کمزور نہیں کیا ہے۔ جدید مطالعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ مذہب کا جذبہ انسان کا فطری جذبہ ہے، کسی طرح اس کو انسان سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ جدید دور میں آخری کوشش یہ کی گئی کہ وحی سے آزاد ہو کر انسانی ساخت کا ایک ”مذہب“ بنایا جائے اور اس کو انسان کی مذہبی تلاش کے جواب کے طور پر پیش کیا جائے، مگر اب تک کی کوششوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ جس کائنات میں انسان کلی علم تک پہنچنے سے عاجز ہے، اس کائنات میں بسنے والی مخلوق کے لیے وہ ایسا دین بھی وضع نہیں کر سکتا جو حقائق کائنات سے کلی مطابقت رکھنے والا ہو۔ جہاں تک خالص سائنس کا تعلق ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ بڑے بڑے سائنس دانوں نے کبھی بھی خدا کے وجود کا انکار نہیں کیا۔ آئزک نیوٹن (وفات 1727) نے واضح طور پر خدا کے وجود کا اقرار کیا تھا۔ البرٹ آئن سٹائن (وفات 1955) خدا کے وجود پر گہرا عقیدہ رکھتا تھا، اپنی ذاتی زندگی میں وہ ایک روحانیت پسند انسان تھا۔ اسی طرح چارلس ڈارون نے اپنی مشہور کتاب اصل الانواع (Origin of Species) میں ایک سے زیادہ مقام پر خدا کے وجود کا اقرار کیا ہے۔ مثلاً اس نے اپنی اس کتاب کے آخری پیراگراف میں لکھا ہے کہ زندگی کے اس تصور میں کتنی عظمت ہے کہ خالق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page