Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب اور سائنس

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

مقابلے میں گلیلیو کے نظریے کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ لیننگ ٹاور سے گرنے والے گولے اس کے نظریے کو آنکھوں دیکھی حقیقت بنا چکے تھے۔ پھر یہی تعصب تھا کہ جب انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر ماکس پلانک (Max Plank) نے روشنی کے متعلق بعض تشریحات پیش کیں جو کائنات کے نیوٹنی تصور کو غلط ثابت کر رہی تھیں تو وقت کے ماہرین نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور عرصہ تک اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ حالانکہ آج وہ کوانٹم تھیوری کی صورت میں علم طبیعیات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ تعصب دوسرے لوگوں میں تو ہو سکتا ہے، مگر سائنس دانوں میں نہیں ہوتا، تو اس کو میں ایک سائنس داں کا قول یاد دلاؤں گا۔ ڈاکٹر ہلز (A. V. Hills) نے کہا ہے: “I should be the last to claim that we, scientific men, are less liable to prejudice than other educated men.” (Quoted by A. N. Gilkes, Faith for Modern Man, p.109) یعنی میں آخری شخص ہوں گا جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ ہم سائنس داں دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلہ میں کم تعصب رکھنے والے ہوتے ہیں۔ اب ایک ایسی دنیا میں جہاں تعصب کی کارفرمائی ہو، یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ کوئی تصور محض اس لیے قبول کر لیا جائے گا کہ وہ علمی طور پر ثابت ہو گیا ہے۔ تاریخ کا طویل تجربہ ہے کہ انسان کے رہنما اس کے جذبات رہے ہیں، نہ کہ اس کی عقل۔ اگرچہ علمی اور منطقی طور پر عقل ہی کو بلند مقام حاصل ہے مگر زیا دہ تر ایسا ہی ہوا ہے کہ عقل خود جذبات کی آلہ کار رہی ہے۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ وہ جذبات کو اپنے قابو میں کر سکی ہو۔ عقل نے ہمیشہ جذبات کے حق میں دلائل تراشے ہیں اور اس طرح اپنے جذباتی رویہ کو عقلی رویہ ظاہر کرنے کی کوشش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page