مذہب اور سائنس
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
reality) کی طرف چلا جا رہا ہے۔ کائنات ایک بہت بڑی مشین کے بجائے ایک بہت بڑے خیال (great thought) سے زیادہ مشابہ معلوم ہوتی ہے۔ ذہن (mind) اتفاقاً محض اجنبی کی حیثیت سے اس مادی دنیا میں وارد نہیں ہو گیا ہے، اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں کہ ذہن کا عالم مادی کے خالق اور حکمراں کی حیثیت سے استقبال کریں۔ یہ ذہن بلاشبہ ہمارے شخصی ذہن کی طرح نہیں ہے۔ بلکہ ایک ایسا ذہن ہے جس نے مادی ایٹم سے انسانی دماغ کی تخلیق کی۔ اور یہ سب کچھ ایک اسکیم کی شکل میں پہلے سے اس کے ذہن میں موجود تھا۔ جدید علم ہم کو مجبور کرتا ہے کہ ہم دنیا کے بارے میں اپنے ان خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لیے تھے۔ ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک منصوبہ ساز یا حکمراں (designing or controlling power) کی شہادت دے رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ مشابہ ہے۔ جذبات و احساسات کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس طرز پر سوچنے کے اعتبار سے جس کو ہم ریاضیاتی ذہن (mathematical mind) کے الفاظ میں ادا کر سکتے ہیں۔“ The Mysterious Universe, pp. 136-38. سائنس کے اندر علمی حیثیت سے اس تبدیلی کے باوجود، یہ واقعہ ہے کہ عملی طور پر انکار خدا کے ذہن میں کوئی نمایاں فرق پیدا نہیں ہوا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس انکار خدا کے وکیل نئے نئے ڈھنگ سے اپنے دلائل کو ترتیب دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ کوئی علمی دریافت نہیں بلکہ محض تعصب ہے۔ تاریخ بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ حقیقت کے ظاہر ہو جانے کے باوجود انسان نے محض اس لیے اس کو قبول نہیں کیا کہ تعصب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ یہی تعصب تھا جب چار سو برس پہلے اٹلی کے علماء نے ارسطو کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader