انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی جدید سائنس داں طویل تجربے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جس طرح ہم بے جان مادہ کے مطالعہ میں کامیاب ہوئے ہیں، اسی طرح ہم انسان کے متعلق حقائق کو دریافت نہیں کرسکتے۔ جامد مادے کے علوم اور حیاتیاتی علوم کے درمیان یہ فرق ہے کہ جامد مادہ ایک متعین قانون کا پابند ہے۔ جبکہ حیاتیاتی مظاہر گویا طلسماتی جنگل ہیں جہاں رنگ برنگ کے بے شمار درخت مسلسل طور پر اپنی جگہ اور اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں۔ مادی مظاہر کے برعکس حیاتیاتی مظاہر کو جبر و مقابلہ کی مساواتوں میں تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ مادی دنیا کا علم بھی اب تک صرف وصفی علم (descriptive science) کے مقام تک پہنچا ہے جو درحقیقت سائنس کی ایک ادنیٰ شکل ہے۔ کیونکہ یہ علم چیزوں کی اصل نوعیت کو ہمارے اوپر بے نقاب نہیں کرتا، بلکہ یہ اس کے چند ظاہری اوصاف مثلاً وزن اور مکانی ابعاد (Spatial Dimensions) وغیرہ کو بیان کرتا ہے تاہم اس علم کی بدولت یہ ہوا ہے کہ ہم میں اتنی طاقت پیدا ہوگئی ہے کہ آئندہ ہونے والے واقعات کے متعلق پیش گوئی کرسکیں بلکہ اکثر حالات میں ان کے ٹھیک ٹھیک واقع ہونے کی تاریخ کا تعین کرسکیں۔ مادہ کی ترکیب اور اس کی خصوصیات جان لینے کے بعد ہم کو اپنی ذات کے علاوہ تقریباً ہر اس چیز پر قابو حاصل ہوگیا ہے جو زمین کی سطح پر موجود ہے۔ جانداروں کے علم نے بالعموم اور انسان کے علم نے بالخصوص اتنی زیادہ ترقی نہیں کی ہے، یہ علم اب تک صرف وصفی حالت میں ہے جبکہ ذی حیات اشیاء کی اصل حقیقت ان کی غیر وصفی ہونا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader