Urdu book · مذہب اور سائنس

انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں میں الکس کیرل کا ایک اقتباس نقل کروں گا: "انسان ایک انتہائی پیچیدہ اور ناقابل تقسیم کل ہے۔ کوئی چیز بھی آسانی کے ساتھ اس کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ہم بیک وقت اس کی پوری ذات کو اس کے اجزاء اور بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات کو بخوبی سمجھ سکیں۔ اپنی ذات کا تجزیہ کرنے کے لیے ہم کو مختلف فنی مہارتوں سے مدد لینی پڑتی ہے۔ اور اس طرح مختلف علوم سے کام لینا ہوتا ہے۔ فطری طور پر یہ تمام علوم اپنے کسی عام مقصد کے متعلق کسی ایک متحدہ تصور پر نہیں پہنچتے۔ وہ انسان سے صرف انہیں چیزوں کی تجرید کرتے ہیں جو ان کے خاص طریقوں سے حاصل ہو سکتی ہے اور ان مجردات کو ایک دوسرے سے ملا بھی دیا جائے تو وہ ایک ٹھوس حقیقت سے بھی کم قیمتی ہوتے ہیں۔ ان مجردات کے بعد بھی ایک ایسی ذات باقی رہتی ہے جو بہت ہی اہم ہوتی ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ علم تشریح، کیمیا، فعلیات، نفسیات، تعلیمات، تاریخ، سماجیات، سیاسی اقتصادیات اپنے موضوع کو پورے طور پر ختم نہیں کرتے۔ وہ انسان جس سے خصوصی ماہرین آشنا ہیں، حقیقی، انسان سے بہت دور ہوتا ہے۔ وہ ایک مفروضہ کے سوا اور کچھ نہیں جو مختلف مفروضات پر مشتمل ہے اور جن کو ہر ایک علم کی فنی مہارتوں نے پیدا کیا ہے۔ انسان بیک وقت ایک لاش ہے، جس کو تشریح کا عالم چیرتا پھاڑتا ہے، وہ ایک شعور ہے جس کا ماہرین نفسیات اور بڑے بڑے روحانی اساتذہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ ایک شخصیت ہے جس کے اندر دیکھنے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اس کی ذات کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہے، وہ کیمیائی مادہ بھی ہے جس سے جسم کی نسجیں اور خلطیں بنتی ہیں۔ وہ خلیوں اور تغذیاتی رطوبتوں کا ایک حیرت انگیز گروہ ہے جن کے جسمانی قوانین کا مطالعہ ماہرین فعلیات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page