انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
کوششوں سے نسیجوں اور اعضا جیسے گروپوں میں منظم ہو جاتے ہیں۔ چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں کی طرح ان خلیوں کو پہلے ہی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اپنے گروہ کو زندہ رکھنے میں انہیں کیا کام کرنا ہے۔ اور چھپی ہوئی بناوٹوں کے ذریعہ وہ ایک ایسے نظام جسمانی کے بنانے کے قابل ہوتے ہیں جو سادہ اور پیچیدہ دونوں ہوتا ہے۔ ہماری مدت (Duration) فعلیاتی وقت (Physiological Time) اور نفسیاتی وقت (Psychological Time) کی نوعیت کیا ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم نسیجوں، اعضاء، رطوبتوں اور شعور سے مرکب ہیں۔ لیکن شعور اور دماغ کے درمیانی تعلقات اب تک ایک راز بنے ہوئے ہیں۔ ہم کو اعصابی خلیوں کے فعلیات کا پورا پورا علم حاصل نہیں۔ ارادی قوت کس حد تک نظام جسمانی میں تبدیلیاں پیدا کرتی ہے، کس طرح دماغ اعضاء کے حالات سے متاثر ہوتا ہے، طرز زندگی غذا کے کیمیائی مادوں، آب وہوا اور فعلیاتی اور اخلاقی تربیتوں کے ذریعہ کس طرح جسمانی اور دماغی خصوصیات میں جو بطور وراثت ہر ایک فرد کو ملتی ہیں، تبدیلیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جان سکتے کہ ڈھانچہ، عضلات اور اعضا اور دماغی اور روحانی سرگرمیوں کے درمیان کس قسم کے تعلقات ہیں۔ ہم ان اسباب سے ناواقف ہیں جن کی بنا پر اعصابی توازن اور تکان اور بیماریوں کی مدافعت پیدا ہوتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ اخلاقی احساس، قوت فیصلہ اور جرات کو کس طرح ترقی دی جا سکتی ہے۔ ذہنی، اخلاقی اور صوفیانہ سرگرمیوں کی اضافی اہمیت کیا ہے، جمالیاتی اور مذہبی احساس کی ضرورت کیا ہے، کس قسم کی قوت سے اشراقی تعلقات کا ظہور ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض فعلیاتی اور دماغی اسباب خوشی یا تکلیف، کامیابی یا ناکامی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ اسباب کیا ہے۔ ہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader