Urdu book · مذہب اور سائنس

انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے ہیں، وہ نسیجوں اور شعور سے مرکب ہے جس کو حفظان صحت اور تعلیمات کے ماہرین، جب کہ وہ زمان کے اندر پھیل رہا ہو، امید افزاترتی دینے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ایک گھریلو اقتصادیات کا حامل ہے جس کا کام پیدا کی ہوئی چیزوں کو استعمال کرتے رہنا ہے تاکہ مشینین جن کا وہ غلام بن گیا ہے، برابر کام کرتی رہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ ایک شاعر، سورما اور ولی بھی ہے، وہ نہ صرف ایک انتہائی پیچیدہ ہستی ہے جس کا تجزیہ سائنس کی فنی مہارتوں کے ذریعہ کیا جا رہا ہے بلکہ وہ انسانیت کے رجحانات، قیاسات اور آرزوؤں کا مرکز ہے۔ بلا شبہ انسانیت نے اپنی حقیقت کو معلوم کرنے کی بڑی زبردست کوشش کی ہے۔ اگرچہ ہمارے پاس تمام زمانوں کے سائنس دانوں فلسفیوں، شاعروں اور بڑے بڑے صوفیوں کے مشاہدات کا ایک انبار موجود ہے مگر ہم اپنی ذات کے صرف چند پہلوؤں کو دریافت کر سکے ہیں، ہم انسان کو اس کی کلی حیثیت میں بخوبی سمجھ نہیں سکے ہیں۔ ہم اس کو الگ الگ حصوں سے مرکب جانتے ہیں اور یہ حصے بھی ہمارے اپنے طریقوں کے پیدا کردہ ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص ایک خیالی پیکر ہے جس کے اندر سے ایک نامعلوم حقیقت جھلک رہی ہے۔ حقیقت میں ہماری ناواقفیت بہت گہری ہے۔ وہ لوگ جو انسانی ہستیوں کا مطالعہ کرتے ہیں، اپنے آپ سے بہت سے ایسے سوالات کرتے ہیں جن کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہماری اندرونی دنیا کے وسیع علاقے اب تک نامعلوم ہیں۔ خلیے کے پیچیدہ اور عارضی اعضاء کے بنانے کے لیے کس طرح کیمیائی مادوں کے ساللے (molecules) باہم مل جاتے ہیں، ترو تازہ بیضہ کی نواة (nucleus) کے اندر کے نسلی مادے کس طرح اس فرد کی خصوصیات کا فیصلہ کرتے ہیں جو اس بیضہ سے پیدا ہوتا ہے، کس طرح خلیے خود اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page