انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور اپنے معاملات کو درست کر سکتا ہے مگر خود ہماری معلوم دنیا کے اندر اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ ہم جس طرح مادے کے اوصاف کو معلوم کر لیتے ہیں، اسی طرح ہم انسان کو سمجھ نہیں سکتے۔ جس وجود کو ہم انسان کہتے ہیں، وہ پروٹوپلازم کے بنے ہوئے کروڑوں خلیوں پر مشتمل ایک جسم ہے۔ پروٹوپلازم کیا ہے؟ وہ غیر ذی روح اشیاء کا ننھا سا مرکب ہے جس کے اندر روح پذیری کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ سادہ لفظوں میں وہ زندگی کی اکائی ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہم مادی دنیا کو سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ہم پروٹوپلازم کا مطالعہ نہیں کر سکتے۔ وہ سب کچھ جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ کچھ چیزوں کا مرکب ہی ہوتا ہے ۔ اگر وسائل و ذرائع حاصل ہوں تو ہم اس طرح کے تمام مرکبات کو وجود میں لا سکتے ہیں اور اسے ختم بھی کر سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر جرمن فلسفی کانٹ نے 1755ء میں کہا تھا۔ ”مجھے مادہ مہیا کرو اور میں تم کو بتا دوں گا کہ دنیا اس مادہ سے کس طرح بنائی جاتی ہے۔“ یا ہیکل (Heackel) نے دعویٰ کیا کہ ”پانی، کیمیائی اجزاء اور وقت ملے تو وہ ایک انسان کی تخلیق کر سکتا ہے۔“ مثلاً پانی کے متعلق معلوم ہو چکا ہے کہ اس کا ایک سالمہ (molecule) آکسیجن کے ایک ایٹم اور ہائیڈروجن کے دو ایٹم سے مرکب ہوتا ہے۔ یہ بالکل ہمارے بس میں ہے کہ ہم ان گیسوں کو اسی تناسب سے ملا کر پانی کی شکل دے دیں۔ یا پانی کے سالموں کو توڑ کر دوبارہ آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تبدیل کر دیں۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے، سائنس نے وہ اجزاء معلوم کر لیے ہیں جو پروٹوپلازم میں پائے جاتے ہیں اور ان کے مخصوص تناسب بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ مگر انسان یہ نہیں کر سکتا کہ ان اجزاء کو اسی مخصوص ترتیب سے ملا کر زندگی پیدا کر دے۔ پروٹوپلازم کے اجزائے ترکیبی کے درمیان جو تناسب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader