انسان جس کو سائنس دریافت نہ کرسکی
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، ٹھیک اسی تناسب سے ان اجزاء کو ملایا جاتا ہے۔ لیکن وہ پروٹو پلازم نہیں بنتا جو ذی روح ہو۔ حالانکہ دوسرے کیمیائی مرکبات ان کے اجزائے ترکیبی کو اسی نسبت سے ملانے پر بن جاتے ہیں۔ گویا ہم جس طرح مادی اشیاء میں تصرف کر کے مادی واقعات کو وجود میں لاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح ہم انسان کے اوپر تصرف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ یہ انسان کے سلسلہ میں ہماری پہلی عاجزی ہے جس کا اعتراف کرنے پر ہم مجبور ہیں۔ دوسری اس سے بڑی چیز یہ ہے کہ انسان کے سلسلہ میں ہمارا تمام طبعیاتی مطالعہ انسان مردہ کا مطالعہ ہے، انسان زندہ کا مطالعہ کرنے کی صلاحیت ہم اپنے اندر نہیں رکھتے۔ سائنس نے وہ اجزاء معلوم کر لیے ہیں جو پروٹو پلازم میں پائے جاتے ہیں اور ان کا مخصوص تناسب بھی معلوم ہو چکا ہے لیکن یہ دریافت نہ ہو سکا کہ ان کے درمیان وہ کون سی مخصوص ترتیب ہے جس کے قائم رہنے سے پروٹو پلازم ذی روح بنا رہتا ہے اور جہاں یہ ترتیب بگڑی، ذی روح پروٹو پلازم غیر ذی روح ہو جاتا ہے۔ گویا اصل میں وہ مخصوص ترتیب ہی ہے جو پروٹو پلازم میں روح کی موجودگی کی ذمہ دار ہے مگر مشکل یہ ہے کہ اس مخصوص ترتیب کو باقی رکھتے ہوئے پروٹو پلازم کا تجزیہ کرنے کے لیے لازمی طور پر اس کی کیمیائی ترتیب کو توڑنا پڑتا ہے اور جوں ہی ہم ایسا کرتے ہیں اس کے اندر سے زندگی رخصت ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی پروٹو پلازم کا کیمیائی تجزیہ کیا جاتا ہے تو یہ وہی وقت ہوتا ہے جب کہ پروٹو پلازم سے اس کی روح نکل جاتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کیمیائی تجزیہ کیا جار ہا ہو اور پروٹو پلازم میں روح موجود ہو۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک ایسا نہ ہوگا، یعنی روح کی موجودگی میں تجزیہ نہ کیا جائے گا زندگی کی حقیقت معلوم کرنے کے بارے میں سائنس ہمیشہ اندھیرے میں رہے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader