Urdu book · مذہب اور سائنس

دورِ جدید کا مذہب۔ تعارف

Urdu book, p. 85

By Maulana Wahiduddin Khan

مثلاً خیال اور فکر کا وجود اتنا ہی اہم ہے جتنا خون ناب (blood serum) کے طبعی کیمیاوی توازنوں کا وجود اہم ہے۔ کمی اور کیفی اشیاء کے درمیان تفرقہ اور وسیع ہو گیا جب کہ ڈیکارٹ نے جسم اور روح کے درمیان فرق کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد سے دماغ کے مظاہر نا قابل تشریح بن گئے۔ مادی اشیاء کو روحانی اشیاء سے بالکل الگ کر دیا گیا۔ جسمانی ساخت اور فعلیاتی طریقے (physiological mechanism) خیال، لذت، حزن اور حسن سے بھی زیادہ بڑی حقیقت قرار پائے۔ اس غلطی کی وجہ سے تمدن ایک ایسی راہ پر پڑ گیا جہاں سائنس کو کامیابی حاصل ہوئی مگر انسان تنزل کے گڑھے میں گرتا چلا گیا۔ اب ٹھیک رخ پر پہنچنے کے لیے ہم کو چاہیے کہ نشاۃ ثانیہ کے دور کے خیالات کی طرف رجوع کریں۔ ہمیں ڈیکارٹ کی ثنویت (dualism) کو ترک کر دینا چاہیے۔ دماغ کو پھر مادہ کے اندر جگہ دینی چاہیے۔ روح کو آئندہ جسم سے جدا نہیں ہونا چاہیے۔ جذبات کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی کہ حرکیات حرارت کے قانون کو دی جاتی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو تین سو سال سے زیادہ عرصہ تک متمدن لوگوں کے ذہنوں پر چھایا رہا، پورے طور پر اس سے آزاد ہونا بہت مشکل ہے لیکن اگر ایسا ہو جائے تو فوراً حیرت انگیز واقعات رونما ہوں گے۔ مادہ کی فوقیت ختم ہو جائے گی۔ ریاضیات، طبیعیات اور کیمیا کی طرح اخلاقی، جمالیاتی اور مذہبی افعال کا مطالعہ بھی بالکل ضروری معلوم ہو گا، حفظان صحت کے ماہرین سے یہ سوال ہوگا کہ وہ کیوں صرف جسمانی بیماریوں کو روکنے کی طرف توجہ کرتے ہیں اور دماغی اور اعصابی امراض کا علاج کیوں تلاش نہیں کرتے۔ ماہرین امراض کو اعضا کے صدمات کے ساتھ اخلاط (humours) کے صدمات کا بھی مطالعہ کرنا ہوگا اور یہ جاننا ہوگا کہ دماغ کا نسیجوں پر نسیجوں کا دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page