دورِ جدید کا مذہب۔ تعارف
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے خیال کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے ماحول کو بنانے میں آزاد نہیں ہیں، ہم کوئی دوسرا ذریعہ نہیں رکھتے۔ جب کہ جدید تمدن نے زندگی کے فطری حالات کو برباد کر دیا ہے، دوسرے تمام علوم کے مقابلے میں انسانی علم (science of man) کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔“ Man, the Unknown, p. 39 اس علم کو حاصل کرنے کی کیا صورت ہو۔ ”ہر سال ہم سنتے رہتے ہیں کہ نسلیات، توالد و تناسل اور اعداد و شمار، اخلاق و عادات، فعليات، تشریح حیاتیاتی کیمیا، طبعی کیمیا، نفسیات، طب، حفظان صحت، تعلیم، سماجیات، عمرانیات، اقتصادیات وغیرہ کے ماہرین نے اپنے اپنے فن میں قابل قدر ترقی کی ہے۔ لیکن عملاً ان کے نتائج حیرت انگیز طور پر بہت ہی غیر اہم ہوتے ہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ معلومات کا یہ وسیع ذخیرہ مختلف دماغوں اور مختلف کتابوں میں بکھرا ہوا ہے، کسی ایک شخص کو بھی ان پر عبور حاصل نہیں۔ ضرورت ہے کہ ان تمام علوم کو چند افراد کے دماغوں میں لے آیا جائے، اسی وقت ان منتشر علوم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔“ مگر کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ایک شخص ان تمام علوم کو حاصل کرلے۔ کیا کوئی فرد تشریح، فعليات، حیاتیاتی، کیمیا، نفسیات، مابعدالطبیعیات، علم الامراض اور طب پر عبور حاصل کر سکتا ہے اور اسی کے ساتھ دوسرے علوم سے گہرے طور پر واقف ہو سکتا ہے۔ ”اس قسم کا کمال حاصل کرنا ناممکن نہیں ہے۔“ مصنف لکھتا ہے۔ ایک شخص تقریباً پچیس سال کے مسلسل مطالعہ کے بعد ان تمام علوم میں دستگاه پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح کے ایک سو افراد پچاس سال کی عمر میں پہنچ کر انسان کی فطرت کے مطابق انسانی زندگی اور تمدن کی موثر رہنمائی کر سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader