Urdu book · مذہب اور سائنس

دورِ جدید کا مذہب۔ تعارف

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد انسان کی تعمیر کرنے کے لیے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جہاں فطری قوانین کے مطابق جسم اور دماغ کی تربیت دی جاتی ہو، ان اداروں میں انسان کے مختلف پہلوؤں کے علوم کو ملا کر ایک کلی علم کی شکل دینی ہوگی اور محققوں اور سائنٹفک کام کرنے والوں کی ایک متحدہ جماعت بنانی پڑے گی۔ ان اداروں کو ماہرین خصوصی کے سپرد نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی رہنمائی ایسے افراد کے ذمہ ہونی چاہیے جو تمام علوم پر عبور رکھتے ہوں۔ خصوصی ماہرین کو صرف ایک عمومی ماہر کا مددگار ہونا چاہیے۔ ایک ماہر اقتصادیات، ایک ماہر نفسیات، ایک کیمیا داں اور ایک سماجی عالم الگ الگ یکساں طور پر انسان کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اپنے دائرہ عمل سے آگے ان کی بصیرت پر کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت درجنوں بہترین ادارے قائم ہیں اور مختلف علوم پر قابل قدر کام کر رہے ہیں مگر پیش نظر مقصد کے لیے ان کی تحقیقات کافی نہیں ہیں۔ ریاضیات، طبیعیات اور کیمیا کے علاوہ ضروری تو ہیں مگر ان کو زندہ نظام جسمانی کی تحقیقات کے لیے بنیادی علوم کی حیثیت سے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ان سے ایسے تصورات کی تخلیق نہیں ہوسکتی جو انسانوں کے ساتھ خاص ہیں۔ آئندہ کے حیاتیاتی کارکنوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ان کا نصب العین محض مصنوعی اور تنہا نظاموں کا مطالعہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظام جسمانی کا مطالعہ ہے اور یہ کہ فعلیات (physiology) کا وہ علم جس کو بیلس (Bayliss) نے دریافت کیا ہے، اصل علم کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ان مسائل کے مطالعہ کے لیے سائنس دانوں کو کئی نسلوں تک اپنی زندگی بھر کام کرتے رہنے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے ہمارے پاس ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page