جائزہ
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
جان توڑ کوشش کے بعد ہی ان پر قابو حاصل کیا جاسکتا ہے، ہمارے ذات کا علم، طبعیات کی خوشنما سادگی، تجرید اور خوبصورتی حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ اسباب جو اس کی ترقی میں حارج ہوتے رہے شاید دور نہیں کیے جاسکتے۔ ہم کو صاف طور پر ماننا چاہیے کہ انسان کا علم تمام علوم میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔‘‘ (ص 23) انسانی علم کی یہ نزاکت تمام مفکرین تسلیم کرتے ہیں۔ جولین ہکسلے لکھتا ہے: ”یہ ناگزیر ہے کہ خدا کے تصور کا خاتمہ مذہب کے خاتمہ کے ہم معنی نہیں۔ خدا کا خاتمہ محض حدود الہیاتی عمل کے مفہوم میں ہے۔ اگرچہ الہیاتی ذہن ختم ہو رہا ہے مگر وہ مذہبی احساسات جنہوں نے خدا کو وجود یا تھا وہ اب بھی باقی ہیں۔ خدا کا خاتمہ مذہب کی ایک نئی تشکیل کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انسان خود اپنے کندھوں پر اس بوجھ کو اٹھائے گا جس کو اس نے پہلے خدا کے کندھوں پر ڈال دیا تھا۔ اس ذمہ داری کا سب سے پہلا مطلب ایک پر اسرار کائنات اور اپنی ناواقفیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ پچھلے زمانوں میں یہ بوجھ ایک فہم و ادراک سے باہر خدائی کے اوپر ڈال دیا گیا تھا۔ اب ہم اس کو خود اپنی ناواقفیت (Ignorance) کے خانہ میں ڈالتے ہیں اور اس امکان کا مقابلہ کرتے ہیں کہ آخری حقائق سے بے خبری ہماری فطرت کی محدودیتوں کی وجہ سے ہمیشہ برقرار رہے گی ۔‘‘ Man in the Modern World, p. 133 یہ تضاد بھی حیرت انگیز ہے کہ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ انسانی علم انسان کے لیے ناقابل دریافت ہے، ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ہم انسان کی زندگی کے مسائل کو حل کر لیں گے، ایسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader