جائزہ
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
کے زمانہ میں ہمارے اوپر اثر انداز ہوتے ہیں۔ شوپنہار نے اپنے مضمون "اخلاقیات کی بنیاد" میں جس کو اس نے کوپن ہیگن کی رائل سوسائٹی آف سائنس میں پیش کیا تھا، یہ رائے ظاہر کی تھی کہ اخلاقی اصول ہمارے فطرت کے اندر اپنی اساس رکھتے ہیں، دوسرے الفاظ میں انسانوں کی خود غرضی، کمینگی اور رحم کے جذبات پیدائشی ہوتے ہیں۔" (ص 127) یہ بنیاد بھی بالکل لغو ہے کیونکہ جرائم کی تحریک کے اگرچہ کچھ اور اسباب بھی ہوتے ہیں مگر یقینی طور پر وہ اسباب اضافی ہیں اور اصل سبب انسان کا اپنا فیصلہ ہے۔ فیصلہ پر کنٹرول حاصل کیے بغیر کسی طرح مجرمانہ ذہنیت ختم نہیں کی جاسکتی۔ یہ قطعاً ناممکن ہے کہ اخلاقی مجرمین کا علاج اسی طرح ہسپتالوں میں ہونے لگے جس طرح جسمانی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ کیونکہ جرم ایک ارادی واقعہ ہے اور بیماری ایک مادی واقعہ۔ ہمارے سرجن مادہ کی چیر پھاڑ کر سکتے ہیں، وہ انسانی ارادہ کا آپریشن نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہ انسانی ارادہ پر قابو بھی نہیں پا سکتے۔ 5۔ زندگی کے موضوع کی پیچیدگی کی وجہ سے مصنف خود تسلیم کرتا ہے کہ اس کا علم ہمیشہ انسان کی دسترس سے باہر رہے گا۔ مگر اس کے باوجود کسی واقعی علمی بنیاد کے بغیر یہ امید موہوم قائم کر لیتا ہے کہ انسان اسے حاصل کر سکتا ہے۔ وہ لکھتا ہے: "طبیعیات، ہیئت، کیمیا اور میکانکس کے شاندار عروج کے مقابلہ میں علم انسانی کی سست رفتاری ہمارے آباؤ اجداد کی کم فرصتی، موضوع کی پیچیدگی اور ہمارے دماغ کی خاص بناوٹ کا نتیجہ ہے۔ یہ رکاوٹیں بنیادی ہیں۔ ان کے ختم ہونے کی کوئی امید نہیں: There is no hope of eliminating them.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader