Urdu book · مذہب اور سائنس

مذہب کی ملحدانہ تشریح

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب کی ملحدانہ تشریح دور جدید کے مفکرین کسی ایسے ذریعہ علم کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جو مخصوص شخص کو وہی طور پر حاصل ہو اور عام تجربہ میں اس کا آنا ممکن نہ ہو سکے۔ ان کے نزدیک جو بات عام لوگوں کے ادراک سے باہر ہو اس کا عام لوگوں سے مطالبہ کرنا نہ صرف غیر منطقی بات ہے بلکہ یہی اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وہ غیر حقیقی ہے۔ کیونکہ اگر وہ حقیقی ہوتی تو دوسرے انسانوں کے لیے بھی اس کا حصول ممکن ہوتا۔ اب چونکہ مذہب اور مذہبی معتقدین ساری تاریخ میں بطور واقعہ موجود رہے ہیں اور آگسٹ کامٹے (1857ء-1798ء) کی پیشین گوئی کے علی الرغم اب تک موجود ہیں، اس لیے مذہب کی صداقت تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی وہ اس کی تشریح کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی تشریح کے لیے قدرتی طور پر ان کا ذہن ایسے مماثل واقعات کی طرف جاتا ہے جو عام انسانوں کے لیے قابل فہم ہوں اور 'شاعری' کی شکل میں بہت جلد انہیں اس کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ فوراً کہہ دیتے ہیں کہ دوسرے ذہنی اعمال کی طرف مذہب بھی محض ایک ذہنی عمل (mental activity) ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ٹائن بی کے الفاظ میں حقیقت کے ادراک کے دو طریقے ہیں۔ ایک سائنسی طریقہ جس کا انحصار مشاہدہ اور تجربہ پر ہے۔ اور دوسرا شاعرانہ طریقہ جو اندر سے ابلتا ہے۔ پہلے طریقہ سے جو چیز دریافت ہو، وہ سائنسی حقیقت (scientific truth) ہے۔ اور دوسرے طریقہ سے جو چیز ملے وہ شاعرانہ حقیقت (poetic truth) ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ لاشعور کی شاعرانہ سطح پر قابل فہم مشاہدہ کا نام پیغمبری ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page