Urdu book · میوات کا سفر

بارھواں سفر

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

کی لائن اور سڑک بالکل قریب سے گزر رہی ہے۔ اس کی پھیلی ہوئی عمارتیں اگرچہ بظاہر کھنڈر سی دکھائی دیتی ہیں۔ مگر پہاڑوں کے اوپر قائم شدہ اس کی دیواریں گویا وہ مضبوط بنیادیں ہیں جن پر ایک پوری کا لوتی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ اس طرح تمدنی ہنگاموں سے دور ہونے کے باوجود یہ جگہ اپنے اندر وہ تمام امکانات لئے ہوئے ہے جو جدید طرز کا ایک بڑا مرکز بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ اگر ضروری وسائل مہیا ہوں اور یہاں مذکورہ بالا طرز پر کام ہو سکے تو مختلف شعبوں اور سرگرمیوں کے ساتھ یہاں کی قدرتی فضا میں وہ اسلامی ماحول انشاء اللہ وجود میں آجائے گا جو اس قرآنی آیت کا مصداق بن سکے۔ وان احد من المشرکین استجارك فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه مامنه ذالك بانهم قوم لا یعلمون۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ایک ایسا اسلامی مرکز اور دعوتی ماحول بنے جہاں غیر مسلم آئیں اور مخصوص فضا میں خدا کی باتوں کو سنیں۔ کی دور میں دار ارقم کی یہی حیثیت تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ اس قسم کا اسلامی مرکز بن گیا۔ آج بھی ضرورت ہے کہ اپنے حالات کے لحاظ سے ہم اس قسم کا ایک دار الاسلام فراہم کریں۔ ملت اسلامیہ اس وقت جن حالات میں گھری ہوئی ہے وہ احیائے نو کے لئے نہایت گہری منصوبہ بندی کا تقاضا کرتے ہیں۔ تنقید اور احتجاج اور مطالبہ کی جو مہم اس وقت تمام مسلم جماعتیں چلا رہی ہیں کافی نہیں۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ موجودہ حالات میں وہ تحفظ کی ضرورت بھی پوری نہیں کر رہی ہیں جب کہ ہمیں زندہ رہنے کے لئے اقدام کی راہیں تلاش کرنا چاہئیں ۔ ہمارے اندر وہ مادی اور تنظیمی زور نہیں جو احتجاج اور مطالبہ کی کسی مہم کو موثر بنانے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اس قسم کی تمام کوششیں عملاً بے اثر ہو کر رہ جاتی ہیں اور دل کا بخار نکالنے کے سوا اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ موجودہ کوششوں کے ساتھ دو قسم کے منصوبے ملت کے اندر پوری قوت کے ساتھ چلائے جائیں۔ ا۔ اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے قوم کو مستحکم کیا جائے تاکہ وہ زمین تیار ہو سکے جس پر کوئی موثر عملی جدوجہد شروع کی جاسکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page