Urdu book · میوات کا سفر

بارھواں سفر

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر قوم کا تعاون ملے تو یہاں ایک اعلیٰ درجہ کا اسلامی مرکز قائم ہو سکتا ہے جو ارشادِ الٰہی پورے ملک کے لئے روشنی کے مینارہ کا کام دے گا۔ درگاہ کے کھنڈرات کی تعمیر اور اس کی زمین کی حد بندی کے بعد حسب وسائل، یہاں حسب ذیل کام کئے جا سکتے ہیں۔ ۱۔ ان لوگوں کی ذہنی وعلی تربیت کا انتظام جو اسلام کا پیغام لے کر قوموں میں نکلنے والے ہوں۔ ۲۔ لسانی اسکول جس میں تسلیم یافتہ لوگوں کو غیر مسلم اقوام کی ز بانیں سکھائی جائیں۔ ۳۔ تقابلی مطالعہ ادیان کا شعبہ تا کہ دعوتی کام کی علمی بنیاد فراہم ہو سکے۔ ۴۔ دار الا اشاعت جس سے مختلف زبانوں میں جرائد اور کتب شائع کی جائیں۔ یہ مطبوعات عام طور پر دو قسم کی ہوں گی۔ ایک وہ جن کا مقصد مسلمانوں کو دعوت الی اللہ کے کام پر ابھارنا ہو۔ اور دوسرا وہ جن کا مقصد غیر مسلموں کے لئے اسلام کا تعارف لٹریچر فراہم کرنا ہو۔ ۵۔ تبلیغی جماعت کے طرز پر غیر مسلموں میں دعوتی وفود بھیجنا جس کو اسلامی اصطلاح میں سر یہ کہتے ہیں۔ ۶۔ اسلام کی بنیادی کتابوں اور مذہب کے موافق اور مخالف لٹریچر پر کتب خانہ فراہم کرنا۔ ۷۔ اسلامی میوزیم جس میں اسلام کی تاریخی یادگاریں، تاریخی چیزوں کی تصویریں اور ایسے چارٹ جمع کئے گئے ہوں کہ اسلام کی تعلیمات اور اس کی ڈیڑھ ہزار برس کی تاریخ سامنے آ جائے۔ ۸۔ پرنٹنگ پریس : یہ اپنے تمام متعلقات کے ساتھ موجودہ زمانہ کا نہایت اہم شعبہ ہے۔ اور اگر ادارہ کے پاس اپنے مواصلاتی ذرائع ہوں تو دہی سے رابطہ رکھ کر اس کام کو اعلیٰ تجارتی پیمانہ پر کیا جا سکتا ہے۔ ۹۔ بیت المال۔ ۱۰۔ ایسی صنعتیں قائم کرنا جو کم از کم جزیی طور پر ادارہ کی کفالت کا ذریعہ بن سکتی ہوں۔ دیگر چیزوں کے علاوہ اس علاقہ میں پہاڑوں پر طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اور درخت ہیں جن سے بڑے بڑے کار و بار کئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً چوٹ اور خون بند کرنے کے لئے، سانپ کے لئے، اسی طرح شہد کا کار و بار وغیرہ۔ درگاہ حضرت موسیٰ پر کبھی پورا گاؤں وقف تھا تاہم اب بھی اس کے پاس کافی زمین ہے۔ بجلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page