Urdu book · میوات کا سفر

تیرھواں سفر

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

تیرھواں سفر دہلی سے الور اور جے پور جانے والی سڑک پر ۶۰ میل چلیں تو ایک چھوٹا گاؤں آتا ہے جس کا نام سانولے ہاس (گوڑ گاؤں) ہے۔ ۱۶ اگست ۱۹۷۳ء کی صبح کو میں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ یہاں پہنچا۔ اس کے بعد نصیر باس، فیروز پور جھرکا، نیلی، مراد باس، تجارہ، دھولی اور منا کا ہوتا ہوا اور آیا۔ یہاں دو دن گزارنے کے بعد ۲۲ اگست کو دہلی واپس پہنچا۔ اس سفر کے چند مشاہدات و تاثرات یہ ہیں۔ اس سفر میں ہریانہ اور راجستھان کے مسلمانوں (میوؤں) کے حالات دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ دینی اعتبار سے دونوں جگہ کی حالت تقریباً یکساں ہے۔ البتہ میں نے دیکھا کہ دیہاتوں کے مسلمان جن کے پاس بڑی بڑی کھیتیاں ہیں۔ ہریانہ (گوڑ گاؤں) میں زیادہ تر قدیم طرز کی زراعت پر قانع ہیں۔ البتہ راجستھان کے مسلمان جدید طریقوں سے کھیتی کر کے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اس فرق کی بڑی وجہ راجستھان کا پنچائتی نظام ہے جس نے کسانوں کی ترقی کے لئے بہت کام کیا ہے۔ ایک گاؤں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس گاؤں کا رقبہ پانچ سو بیگہ ہے اور سب ایک ہی خاندان کے پاس ہے۔ سڑک کے دونوں طرف سبز کھیت لہلہارہے تھے، جن کے پورب پچھم میں پہاڑ کی دیواریں چوکی دار کی طرح کھڑی ہوئی ہیں۔ یہ گاؤں ہریانہ میں واقع ہے۔ اور ریاست کے دوسرے گاؤں کی طرح یہاں بھی بجلی پہنچ چکی ہے۔ کشادہ سڑک پہلے سے اس کے کنارے موجود ہے۔ گاؤں کے رقبہ کا نصف حصہ حاجی شمع سنگھ (۷۰ سال) کے پاس ہے اور بقیہ نصف ان کے بھتیجے کے پاس۔ حاجی شمع سنگھ نے نام کی اس پرانی روایت کو اپنی اگلی نسل میں ختم کر دیا ہے اور اپنے لڑکوں کے نام دین محمد اور فتح محمد رکھے ہیں۔ ان کی شرعی داڑھی اور ان کی ایمان ویقین کی باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک پکے مسلمان ہیں۔ ۲۰ افراد کا کنبہ رکھنے کے باوجود وہ نہ صرف تمام مسافروں کے تنہا میزبان ہوتے ہیں، بلکہ گاؤں کا مدرسہ بھی اکیلے چلا رہے ہیں۔ "کیا آپ نے ٹیوب ویل لگا رہا ہے" میں نے حاجی صاحب سے پوچھا "نہیں جی" انھوں نے جواب دیا۔ بجلی کے تاروں کے سایہ میں بسے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page