تیرھواں سفر
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے اس گاؤں کے پاس آب پاشی کا ذریعہ صرف آسمانی بارش ہے۔ جب پانی نہیں برس تا اس وقت آپ آب پاشی کے لئے کیا کرتے ہیں۔ اس کا جواب حاجی صاحب کے پاس یہ تھا " بس جی خدا دیوے ہے " ان کے دین نے ان کو قناعت اور توکل علی اللہ کا جو سرمایہ دیا ہے اس کے بعد ان کو یہ بتانا انتہائی دشوار ہے کہ وہ ٹریکٹر اور ٹیوب ویل لگا کر اپنی زمینوں سے چوگن زیادہ پیدا وار حاصل کر سکتے ہیں۔ " آپ کے پاس مین سڑک کے کنارے ڈھائی سو بیگہ کھیت ہیں ۔ آپ ٹریکٹر کیوں نہیں لیتے ۔" میں نے حاجی شمع سنگھ سے کہا۔ " روپیہ نہیں " " سرکار سے قرض لیجئے " " نہیں جی میں قرض نہیں لیتا۔ آپ تو دعا کرو کہ میرے پاس ہو جائے تو میں ٹریکٹر لے لوں۔" اس جواب سے میں سمجھا کہ حاجی صاحب شاید اس علاقے کے ان چند خوش نصیبوں میں سے ہیں جو قرض سے محفوظ ہیں۔ مگر جلد ہی میری خوش فہمی دور ہو گئی۔ کیوں کہ مجھے معلوم ہوا کہ حاجی صاحب صرف موجودہ سال (۱۹۷۲ء) کے لئے بنے کے ۳۶ ہزار روپے کے مقروض ہیں۔ اس کی ادائیگی کے لئے ۲۰ من سرسوں ، ۱۰۰ من جو ، ۵ من گھی اور کیا کیا دے چکے ہیں ، پھر بھی دس ہزار روپے ابھی تک باقی ہیں۔ اس قسم کے قرضوں کا سلسلہ اس بنٹے سے ۲۰ سال سے چل رہا ہے۔ حاجی صاحب کی زندگی تو انتہائی سادہ ہے۔ ان کا مکان بھی بالکل معمولی ہے ، نہ انھوں نے ٹیوب ویل لگایا ، نہ ٹریکٹر خریدا ، آخر ہر سال اتنے بڑے قرضے ان کے ذمے کس طرح ہو جاتے ہیں۔ " اس کا راز سود ہے ۔ " ایک شخص نے بتایا " یہاں پانچ روپیہ سیکڑہ فی ماہ شرح سود ہے۔ حاجی صاحب اس بنٹے سے کپڑا وغیرہ ادھار خریدتے ہیں مختلف ضرورتوں کے لئے نقد روپے لیتے ہیں۔ یہ قرضے سود در سود مل کر بڑی بڑی رقموں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔" حاجی صاحب کو روایتی قرضے گوارا ہیں خواہ ان پر کتنا ہی سود دینا پڑے۔ مگر حکومت کا قرضہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ کیوں کہ ان کی روایات نے انھیں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ ان کے ماضی نے ان کو روایتی قناعت و توکل کا جو مزاج دیا ہے اس کے بعد ان کو یہ بتانا انتہائی دشوار ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایک ایسے گاؤں کا مالک ہونا کیا معنی رکھتا ہے، جہاں بجلی پہنچ چکی ہو اور جو ایک قومی شاہراہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader