Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 193

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ لے لاٹھی لوکڑی یہ لے اپنی گائے ہم پہ مہر مدار کی ہم کس کی گھیریں گے گائے اس کے بعد وہ مدار شاہ کے مرید ہو گئے ، غار میں چلہ دیا اور اپنی درگاہ بنائی ۔ ان کی بڑی درگاہ ڈہرا (الور) کے پاس ہے جو چو پڑیدہ کے نام سے مشہور ہے۔ مسلمانوں کی جدید تاریخ کا یہ سب سے زیادہ حیرت انگیز عجوبہ ہے کہ ان کے درمیان ایسے بے شمار "پیدا ہوئے جو جانور کے سوکھے تھن سے دودھ نکال سکتے تھے اور پتھر میں نور پیدا کرنے کا کرتب دکھا سکتے تھے ، مگر ہم وہ بزرگ پیدا نہ کر سکے جو انسانوں میں حقیقی اسلامی روح پھونکتا اور اسلام کا نور دنیا میں پھیلاتا ۔ مزید حیرت انگیز بات ہے کہ اس عجیب و غریب کرامت کی کہانیاں سب سے زیادہ انھیں علاقوں میں مشہور ہیں جو دین دنیا دونوں میں سب سے زیادہ پیچھے ہیں۔ اس سفر میں تقریبا دسویں دن تک بعض ایسے لوگوں کا ساتھ رہا جو ہفت روزہ الجمعۃ کے قدرداں ہیں اور اس کو شروع سے پڑھتے رہے ہیں مگر بات چیت اور تقریریوں میں جو باتیں میں نے کہیں وہ اکثر انھیں ”نئی“ معلوم ہوئیں ۔ حالاں کہ بنیادی طور پر یہ سب وہی باتیں تھیں جو میں الجمعۃ کے صفحات میں مسلسل لکھتا رہا ہوں۔ اس سے اندازہ ہوا کہ اخبار کا ذریعہ ذریعہ ذہنوں کی تعمیر کے لئے سب سے کم کامیاب ہے۔ اس کے مقابلہ میں کتاب نسبتاً زیادہ مفید ہے۔ کیوں کہ کتاب میں آدمی اپنے خیالات کو یکجا طور پر جامعیت اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ مگر غالبًا سب سے زیادہ مفید اور کارگر طریقہ شخصی ربط ، گفت گوؤں اور تقریروں کا ہے۔ شخصی طور پر اپنی زبان سے آدمی جب اپنے نقطہ نظر کو بیان کرتا ہے تو اس میں بیک وقت دو باتیں شامل ہو جاتی ہیں۔ ایک سننے والے کی پوری رعایت ، دوسرے سنانے والے کی پوری شخصیت ۔ یہ دونوں چیزیں مل کر شخصی اور زبانی طریقہ تبلیغ کو زیادہ مؤثر اور کارگر بنا دیتی ہیں۔ یہ دونوں چیزیں وہ ہیں جو اخبار اور کتاب میں شامل نہیں کی جاسکتیں۔ کسی کے اندر خصوصی قوت تحریر ہو تو وہ کسی درجہ میں اپنی شخصیت کو اپنی تحریروں میں منعکس کر سکتا ہے مگر پورے طور پر شخصیت کو تحریر کے اندر سمونا شاید ممکن نہیں۔ اس سفر میں میرے ساتھ حسب ذیل افراد تھے : ۱۔ مولانا مفتی جمال الدین قاسمی (۴۵ سال)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page