Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

گوشت نہ کھانا۔ شراب نہ پینا۔ یہ درگاہ بہت بڑے رتبہ میں ہے۔ اور اس پر کافی زمینیں وقف ہیں۔ اگر یہاں ایک مدرسہ قائم کیا جائے، تو نہایت کامیابی کے ساتھ چل سکتا ہے۔ مگر اس درگاہ کے چاروں طرف ہزاروں مسلمان جہالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور درگاہ کے امکانات برباد ہو رہے ہیں۔ نوگاؤں میں کئی مسجدیں تھیں جو ۱۹۴۷ء کے ہنگامے میں ختم کر دی گئیں۔ اب ایک مسجد کے کھنڈر پر دوبارہ مسجد بن گئی ہے اور اس میں جماعت قائم ہے۔ یہ جنوری ۱۹۷۴ء کی ۲۶ تاریخ ہے اور شام ۴ بجے کا وقت۔ میں ایک غار کے اندر بیٹھ کر یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں۔ مقامی طور پر اس کو "چوڑسدہ کی گھا" کہتے ہیں۔ خان پور (ضلع الور) میں پہاڑوں اور چشموں کے درمیان یہ غار تقریباً آٹھ میٹر لمبا اور ایک میٹر سے کچھ کم چوڑا ہے۔ اونچائی صرف اتنی ہے کہ آدمی بیٹھ سکے "چوڑسدہ" خواجہ معین الدین چشتی (۱۲۱۴ء - ۱۲۳۶ء) کے زمانے کے ایک میواتی بزرگ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اس غار میں بیٹھ کر چلہ کیا تھا۔ اس کے بعد ہمیں ایک چشمہ کے کنارے انھوں نے اپنا ذکر و شغل شروع کیا، جہاں ان کے کسی معتقد نے کچھ تعمیرات کر دی ہیں جو اب بھی سنسان حالت میں موجود ہیں۔ اور ان کو "چوڑسدہ کی بیٹھک" کہا جاتا ہے۔ اس (تبارہ ) کی چھت پر ہم نے عصر کی نماز پڑھی۔ مشہور ہے کہ چوڑسدہ میواتی سا ہوڑی (الور) کے کسی گوجر کی گائے چراتے تھے۔ ایک روز ایک بزرگ مدار شاہ (مکن پور ۔ یوپی) ان کی گایوں کے پاس آئے اور کہ کہ بچے فلاں گائے کا دودھ لاؤ ہم کھیر کھائیں گے"۔ انھوں نے جواب دیا " بابا یہ گائے تو دودھ نہیں دیتی۔" وہ گائے ابھی بچہ تھی، نہ گابھن ہوئی تھی، نہ اس سے بچہ ہوا تھا۔ بزرگ نے کہا " تم جاکر دودھ نکالو، وہ دودھ دے گی"؛ بزرگ کے اصرار پر چوڑسدھ گئے۔ جب انھوں نے تھن میں ہاتھ لگایا تو اس میں سے دودھ نکلنے لگا۔ اس کی کھیر پکائی گئی اور دونوں نے کھائی۔ اس واقعہ کے بعد چوڑسدھ نے گائے چرانے کا کام چھوڑ دیا، عبادت و ریاضت میں لگ گئے، اور گوجر سے کہا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page