Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

چند سفر دسمبر ۶۱۹۷۸ کے آخری ہفتہ میں میوات (ہریانہ) کے چند مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا: بہادس، برکلی، پنگواں، نیم کھیڑا، بُڈیڈ اور فیروز پور جھیرکا۔ ۲۰ دسمبر کی شب نیم کھیڑا (ضلع گورگاؤں) میں گزری۔ یہاں گاؤں کے کنارے سے اونچائی پر ایک مسجد ہے، جس کے شمالی جانب کشادہ، صاف ستھرا کمرہ بنا ہوا ہے ۔ یہاں مسجد میں نماز عشار کے بعد ایک تذکیری مجلس ہوئی جس میں راقم الحروف نے بعض احادیث کی روشنی میں بتایا کہ اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی تقویٰ کی رسّی میں بندھ جائے ۔ وہ ہر معاملہ میں بس وہیں تک جائے جہاں تک حد ود اللہ اس کو اجازت دیتے ہوں۔ اس کے آگے اس کا ایمان اور خوف آخرت اس کو روک لے ۔ مولا نا عبد الرحیم بُڈیڈی اس مسجد میں امام اور مدرس کی حیثیت سے مقیم ہیں۔ گاؤں کے بچے قرآن اور دینی تعلیم کے لیے یہاں جمع ہو جاتے ہیں ۔ ان کے مل کر پڑھنے سے ایک قسم کا تعلیمی نغمہ مسجد کی فضا میں گونجتا رہتا ہے ۔ گاؤں کے لوگ ملنے کے لیے کمرہ میں آتے رہے اور اس طرح گاؤں کے لوگوں سے دینی ربط جاری رہا ۔ خاص طور پر جناب شمس الدین صاحب اور ان کے اہل خاندان سے جن کا مکان مسجد سے بالکل ملا ہوا ہے ۔ کمرہ کا جائے وقوع ایسا ہے کہ صبح کو سورج نکلتے ہی دھوپ کمرے کے اندر آگئی ۔ سردی کے موسم میں صبح صبح چمکنا ہوا سورج جب اپنی سنہری کرنوں کے ساتھ ہماری قیام گاہ کے اندر داخل ہوا تو ایسا محسوس ہوا گو یا زمین والوں کے ساتھ ہم " آسمان والوں سے بھی مربوط ہو گئے ہیں ۔ مسجد کے باہر پھیلے ہوئے ہرے ہرے کھیت، ان میں جگہ جگہ کھڑے ہوئے درخت، دور آسمان کو چھوتی ہوئی پہاڑ کی دیواریں، ان قدرتی مناظر کے درمیان چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں، اس ماحول میں بیٹھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے خالق اپنی مخلوقات کے پورے کارخانے کے ساتھ ہماری پشت پر آکر کھڑا ہو گیا ہے ۔ شہری زندگی میں آدمی تمدن کی مصنوعی حد بندیوں میں گم رہتا ہے، مگر شہروں کے باہر قدرت کی جو پھیلی ہوئی دنیا ہے، وہاں اپنے کو پہنچا دیجیے تو زندگی اپنی تمام تنگیوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page